اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 176 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 176

حاب بدر جلد 2 176 حضرت ابو بکر صدیق کرنے کا حکم دیا؟ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ کا مطالعہ کرنے سے بڑی آسانی سے معلوم ہو سکتا ہے کہ حضرت ابو بکرؓ کے عہد میں مرتد ہونے والے صرف مرتد ہی نہیں تھے بلکہ وہ باغی تھے اور خونخوار ارادوں کے حامل باغی تھے جنہوں نے نہ صرف یہ کہ ریاست مدینہ پر حملہ کر کے مسلمانوں کو قتل کرنے کے بھیانک منصوبے بنائے بلکہ مختلف علاقوں میں مسلمانوں کو پکڑ پکڑ کر بڑی بے رحمی سے قتل کیا۔ان کے اعضاء کاٹ کر ان کو مارا گیا۔انہیں زندہ آگ میں جلایا گیا۔یہ مرتدین ظلم و ستم اور قتل و غارت اور بغاوت اور لوٹ مار جیسے بھیانک جرائم کا ارتکاب کرنے والے لوگ تھے جس کی وجہ سے دفاعی اور انتقامی کارروائی کے طور پر ان محارب لوگوں سے جنگ کی گئی اور جَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا کے تحت ان کو بھی ویسی ہی سزائیں دے کر قتل کرنے کے احکامات صادر کیے گئے جیسے جرائم کے وہ مر تکب ہوئے تھے۔چنانچہ تاریخ اور سیرت کی کتابوں سے کچھ تفصیل پیش کی جاتی ہے۔444 تاریخ خمیس میں لکھا ہے کہ خَارِجہ بن حضن جو مرتدین میں سے تھا اپنی قوم کے کچھ سوار لے کر مدینہ کی طرف بڑھا۔وہ چاہتا تھا کہ اہل مدینہ کو جنگ کے لیے نکلنے سے قبل ہی روک دے یا انہیں غفلت میں پا کر حملہ کر دے۔چنانچہ اس نے حضرت ابو بکر اور آپ کے ساتھ کے مسلمانوں پر اس وقت چھاپہ مارا جبکہ وہ لوگ بے خبر تھے۔4 مرتدین نے نہ صرف مدینہ پر حملہ کیا بلکہ جب حضرت ابو بکر نے انہیں شکست دی تو انہوں نے صادق الایمان مسلمانوں کو بھی تہ تیغ کر دیا جو اُن قوموں میں بستے تھے جیسا کہ گذشتہ خطبہ میں اس کا میں ذکر کچھ کر چکا ہوں اور جو باوجود اپنی قوم کے مرتد ہو جانے کے اسلام پر قائم رہے تھے۔چنانچہ علامہ طبری لکھتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکر نے مختلف حملہ آور قبائل کو شکست دی تو بنو د بیان اور عبس اُن مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے جو اُن میں رہتے تھے اور اُن کو ہر ایک طریق سے قتل کیا اور ان کے بعد دیگر اقوام نے بھی انہی کی طرح کیا یعنی انہوں نے بھی ایسے لوگوں کو قتل کر دیا جو 445 اسلام پر قائم رہے۔علامہ ابن اثیر لکھتے ہیں کہ عبس اور بنو ڈ بیان قبائل نے اپنے ہاں کے نہتے مسلمانوں کو بری طرح قتل کرناشروع کر دیا اور ان کی دیکھا دیکھی دوسرے قبائل نے بھی ایسا ہی کیا۔اس پر حضرت ابو بکر نے قسم کھائی کہ وہ ہر قبیلے کے ان لوگوں کو ضرور قتل کریں گے جنہوں نے مسلمانوں کو قتل کیا ہے۔446 جیسا کہ بیان کیا گیا تھا کہ آنحضرت صلی علیم کی وفات پر جن قبائل نے ارتداد اختیار کیا ان کا ارتداد مذہبی اختلاف تک محدود نہ تھا بلکہ انہوں نے سلطنت اسلامی سے بغاوت اختیار کی تھی۔تلوار کو اپنے ہاتھ میں لیا تھا۔مدینہ منورہ پر حملہ کیا۔اپنی اپنی قوموں کے مسلمانوں کو قتل کیا۔آگ میں ڈالا اور ان کا مثلہ کیا۔جیسا کہ تاریخ طبری میں حضرت خالد بن ولید کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب اسد اور غطفان اور ہوازن اور سلیم اور کلیء کو شکست ہوئی تو خالد رضی اللہ عنہ نے ان سے معافی قبول نہ کی * علامہ ابن کثیر