اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 2 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 2

ناب بدر جلد 2 آپ کے والد ماجد کے قبول اسلام لانے کا واقعہ 2 حضرت ابو بکر صدیق الله آپ کے والد کے ایمان لانے کا واقعہ یوں ہے کہ آپ کے والد فتح مکہ تک ایمان نہیں لائے تھے۔اس وقت ان کی بینائی جاچکی تھی۔فتح مکہ کے وقت جب رسول کریم صلی للی یکم مسجد حرام میں داخل ہوئے تو حضرت ابو بکر اپنے والد کو لے کر رسول کریم صلی علیکم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔جب نبی کریم صلی علیکم نے ان کو دیکھا تو آپ صلی الی یکم نے فرمایا۔اے ابو بکر ا تم اس بوڑھے عمر رسیدہ شخص کو گھر ہی رہنے دیتے۔میں خود ان کے پاس آجاتا۔اس پر حضرت ابو بکر نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! یہ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے نہ یہ کہ آپ ان کے پاس تشریف لاتے۔حضرت ابو بکر نے انہیں رسول کریم صلی المینیوم کے سامنے بٹھایا تو آپ صلی القیوم نے ان کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا کہ اسلام لے آئیں۔آپ سلامتی میں آجائیں گے۔چنانچہ ابو قحافہ نے اسلام قبول کر لیا۔” 7 حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ ابو قحافہ کو فتح مکہ کے دن لایا گیا تو ان کا سر اور داڑھی تعامہ کی طرح سفید ہو چکے تھے۔تعامہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سفید رنگ کا ایک پھول ہو تا تھا جو پہاڑوں پر اگتا تھا۔بہر حال بالکل سفید بال تھے۔داڑھی بہت سفید تھی اس پر رسول اللہ صلی ہیں ہم نے فرمایا کہ اسے کسی اور رنگ سے تبدیل کر دو یعنی اس پہ خضاب لگا دو۔رنگ کر دو زیادہ بہتر ہے لیکن سیاہ رنگ سے بچو۔8 یہ مطلب نہیں تھا کہ سیاہ رنگ کوئی برائی ہے بلکہ شاید آپ نے خیال فرمایا ہو کہ عمر کے اس حصہ میں بالکل سیاہ رنگ کے بال چہرے پر شاید مناسب نہ لگیں تو بہر حال آپ نے کہا اس کو رنگ دینا چاہیے، خضاب لگا دینا چاہیے۔シ حضرت ابو بکر پر کفار کے مظالم اور آپ کی والدہ کا اسلام قبول کرنا حضرت ابو بکر کی والدہ ابتدائی اسلام قبول کرنے والوں میں شامل تھیں۔اس کا ذکر سیرت حلبیہ میں اس طرح ہے کہ جب رسول اللہ صلی علی نام دار ارقم میں تشریف لے گئے تا کہ وہاں آپ اور آپ کے صحابہ چھپ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کر سکیں اور اس وقت مسلمانوں کی تعداد اڑ تھیں 38 تھی۔اس وقت حضرت ابو بکر نے رسول اللہ صلی علی یم کی خدمت میں درخواست کی کہ مسجد حرام میں تشریف لے چلیں۔آپ صلی علی کرم نے فرمایا: اے ابو بکر ! ہماری تعداد قلیل ہے لیکن حضرت ابو بکر اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ آنحضرت صلی علیہم اپنے تمام صحابہ کے ساتھ مسجد حرام میں تشریف لائے۔وہاں حضرت ابو بکر نے لوگوں کے سامنے خطاب کیا جبکہ رسول اللہ صلی ال ولم تشریف فرما تھے۔حضرت ابو بکر نے خطاب میں لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف دعوت دی۔اس طرح آپ رسول اللہ صلی الیکم کے بعد پہلے خطیب ہیں جنہوں نے لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا۔اس پر مشرکین