اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 138 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 138

اصحاب بدر جلد 2 138 حضرت ابو بکر صدیق ہو گئے اور باغیوں اور سرکشوں کی ایسی سرکوبی کی گئی کہ خلافت کی ڈولتی ہوئی امارت مستحکم اور مضبوط بنیادوں پر قائم ہو گئی۔خلافت کے آغاز میں حضرت ابو بکر صدیق کو جن خطرات و مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ان کا ذکر اتم المومنین حضرت عائشہ نے بھی فرمایا ہے جس کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : ” (حضرت) عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، آپؐ فرماتی ہیں کہ جب میرے والد خلیفہ بنائے گئے اور اللہ نے انہیں امارت تفویض فرمائی تو خلافت کے آغاز ہی میں آپ نے ہر طرف سے فتنوں کو موجزن اور جھوٹے مدعیانِ نبوت کی سرگرمیوں اور منافق مرتدوں کی بغاوت کو دیکھا اور آپ پر اتنے مصائب ٹوٹے کہ اگر وہ پہاڑوں پر ٹوٹتے تو وہ پیوست زمین ہو جاتے اور فوراً گر کر ریزہ ریزہ ہو جاتے لیکن آپ کو رسولوں جیسا صبر عطا کیا گیا یہاں تک کہ اللہ کی نصرت آن پہنچی اور جھوٹے نبی قتل اور مرتد ہلاک کر دیئے گئے۔(جھوٹے نبی قتل کر دیئے گئے اور مرتد ہلاک کر دیئے گئے۔) فتنے دُور کر دیئے گئے اور مصائب چھٹ گئے اور معاملے کا فیصلہ ہو گیا اور خلافت کا معاملہ مستحکم ہوا اور اللہ نے مومنوں کو آفت سے بچا لیا اور ان کی خوف کی حالت کو امن میں بدل دیا اور ان کے لئے ان کے دین کو تمکنت بخشی اور ایک جہان کو حق پر قائم کر دیا اور مفسدوں کے چہرے کالے کر دیئے اور اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندے (حضرت ابو بکر صدیق کی نصرت فرمائی اور سرکش سرداروں اور بتوں کو تباہ و برباد کر دیا اور کفار کے دلوں میں ایسار عب ڈال دیا کہ وہ پسپا ہو گئے اور (آخر) انہوں نے رجوع کر کے توبہ کی اور یہی خدائے قہار کا وعدہ تھا اور وہ سب صادقوں سے بڑھ کر صادق ہے۔پس غور کر کہ کس طرح خلافت کا وعدہ اپنے پورے لوازمات اور علامات کے ساتھ (حضرت ابو بکر صدیق کی ذات میں پورا ہوا۔371❝ حضرت ابو بکر کو پیش آنے والے پانچ قسم کے ہم و غم اور مسائل حضرت ابو بکر کو ابتدا میں ہی درج ذیل پانچ قسم کے ہم و غم اور مسائل کا سامنا کرنا پڑان: نمبر ایک۔آنحضرت صلی علیکم کی وفات اور جدائی کا غم، [ نمبر 2] انتخاب خلافت اور امت میں فتنے اور اختلاف کا خوف وخطرہ، [ نمبر 3] لشکر اسامہ کی روانگی کا مسئلہ اور نمبر چار: مسلمان کہلاتے ہوئے زکوۃ دینے سے انکار اور مدینہ پر حملہ کرنے والے جس کو تاریخ میں فتنہ مانعین زکوۃ کہا جاتا ہے اور نمبر پانچ: فتنہ ارتداد یعنی ایسے سرکش اور باغی جنہوں نے کھلم کھلا بغاوت اور جنگ کا اعلان کر دیا۔اس بغاوت میں وہ شامل ہو گئے جنہوں نے اپنے طور پر نبی ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔