اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 139
حاب بدر جلد 2 139 حضرت ابو بکر صدیق حضرت ابو بکر کی حضرت یوشع بن نون کے ساتھ مشابہتیں خوف کی ان سب حالتوں میں مصائب اور فتن کا قلع قمع کرنے میں جو کامیابی اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو بکر کو عطا فرمائی اس کی تفصیل آگے بیان ہو گی لیکن اس سے قبل حکم و عدل حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا ایک تفصیلی اقتباس ہے وہ بھی پیش ہے جس میں آپ علیہ السلام نے حضرت ابو بکر کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پہلے خلیفہ حضرت یوشع بن نون کے ساتھ مشابہت دیتے ہوئے حضرت ابو بکر کو پیش آنے والے مسائل و مصائب اور فتوحات و کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے بیان فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ ”جس آیت سے دونوں سلسلوں یعنی سلسلہ خلافتِ موسویہ اور سلسلہ خلافت محمدیہ میں مماثلت ثابت ہے یعنی جس سے قطعی اور یقینی طور پر سمجھا جاتا ہے کہ سلسلہ نبوت محمدیہ کے خلیفے سلسلہ نبوت موسویہ کے مشابہ و مماثل ہیں وہ یہ آیت ہے: وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قبلهم الخ (النور (56) یعنی خدا نے ان ایمانداروں سے جو نیک کام بجالاتے ہیں وعدہ کیا ہے جو ان میں سے زمین پر خلیفے مقرر کرے گا انہی خلیفوں کی مانند جو ان سے پہلے کئے تھے۔اب جب ہم مانند کے لفظ کو پیش نظر رکھ کر دیکھتے ہیں جو محمدی خلیفوں کی موسوی خلیفوں سے مماثلت واجب کرتا ہے تو ہمیں ماننا پڑتا ہے جو ان دونوں سلسلوں کے خلیفوں میں مماثلث ضروری ہے اور مماثلت کی پہلی بنیاد ڈالنے والا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور مماثلت کا آخری نمونہ ظاہر کرنے والا وہ مسیح خاتم الخلفاء محمد یہ ہے جو سلسلہ خلافت محمدیہ کا سب سے آخری خلیفہ ہے۔سب سے پہلا خلیفہ جو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ہے وہ حضرت یوشع بن نون کے مقابل اور ان کا مثیل ہے جس کو خدا نے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلافت کے لئے اختیار کیا اور سب سے زیادہ فراست کی روح اس میں پھونکی یہاں تک کہ وہ مشکلات جو عقیدہ باطلہ حیاتِ مسیح کے مقابلہ میں خاتم الخلفاء کو پیش آنی چاہیے تھی ان تمام شبہات کو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کمال صفائی سے حل کر دیا اور تمام صحابہ میں سے ایک فرد بھی ایسا نہ رہا جس کا گذشتہ انبیاء علیہم السلام کی موت پر اعتقاد نہ ہو گیا ہو بلکہ تمام امور میں تمام صحابہ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی ایسی ہی اطاعت اختیار کر لی جیسا کہ حضرت موسیٰ کی وفات کے بعد بنی اسرائیل نے حضرت يشوع بن نون کی اطاعت کی تھی اور خدا بھی موسیٰ اور یشوع بن نون کے نمونہ پر جس طرح آنحضرت صلی علیم کے ساتھ تھا اور آپ کا حامی اور مؤید تھا۔ایسا ہی ابو بکر صدیق کا حامی اور مؤید ہو گیا۔“ یوشع بن نون یا یشوع بن نون ایک ہی چیز ہیں ایک ہی نام ہیں۔آپ فرماتے ہیں ”در حقیقت خدا نے یشوع بن نون کی طرح اس کو ایسا مبارک کیا جو کوئی دشمن اس کا مقابلہ نہ کر سکا اور اسامہ کے لشکر کا نا تمام کام جو حضرت موسیٰ کے نا تمام کام سے مشابہت رکھتا تھا حضرت ابو بکر کے ہاتھ پر پورا کیا۔اور حضرت ابو بکر کی حضرت یشوع بن نون کے ساتھ ایک اور عجیب 372