اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 137 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 137

اصحاب بدر جلد 2 137 369 368 حضرت ابو بکر صدیق لگے۔آپ کے ذاتی مصارف کے لیے سالانہ چھ ہزار درہم کی رقم منظور کی گئی۔18 چنانچہ بیت المال سے حضرت ابو بکر کا اتنا وظیفہ مقرر کر دیا گیا جس سے ان کا اور ان کے اہل و عیال کا گزارہ چل سکے لیکن جب حضرت ابو بکر کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے اپنے رشتہ داروں کو حکم دیا کہ جو وظیفہ میں نے بیت المال سے لیا ہے وہ سارے کا سارا واپس کر دیا جائے اور اس کی ادائیگی کے لیے میری فلاں فلاں زمین بیچ دی جائے اور آج تک مسلمانوں کا جو مال میں نے اپنے اوپر خرچ کیا ہے اس زمین کو فروخت کر کے وہ پوری کی پوری رقم ادا کر دی جائے۔چنانچہ جب ان کی وفات کے بعد حضرت عمر خلیفہ ہوئے اور وہ رقم ان کے پاس پہنچی تو وہ رو پڑے اور کہا اے ابو بکر صدیق ! تم نے اپنے جانشین پر بہت بھاری بوجھ ڈال دیا ہے۔حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں کہ ”حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تمام عالم اسلامی کے بادشاہ تھے مگر ان کو کیا ملتا تھا۔پبلک کے روپیہ کے وہ محافظ تو تھے مگر خود اس روپیہ پر کوئی تصرف نہیں رکھتے تھے۔بے شک حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ بڑے تاجر تھے مگر چونکہ ان کو کثرت سے یہ عادت تھی کہ جو نہی روپیہ آیا خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دیا اس لئے ایسا اتفاق ہوا کہ جب رسول کریم صلی می نم کی وفات ہوئی اور آپ خلیفہ ہوئے تو اس وقت آپ کے پاس نقد روپیہ نہیں تھا۔خلافت کے دوسرے ہی دن آپ نے کپڑوں کی گٹھڑی اٹھائی اور اسے بیچنے کے لئے چل پڑے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ رستہ میں ملے تو پوچھا کیا کرنے لگے ہیں ؟ انہوں نے کہا آخر میں نے کچھ کھانا تو ہوا۔اگر میں کپڑے نہیں بیچوں گا تو کھاؤں گا کہاں سے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یہ تو نہیں ہو سکتا۔اگر آپ کپڑے بیچتے رہے تو خلافت کا کام کون کرے گا؟ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اگر میں یہ کام نہیں کروں گا تو پھر گزارہ کس طرح ہو گا ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ بیت المال سے وظیفہ لے لیں۔حضرت ابو بکر نے جواب دیا کہ میں یہ تو بر داشت نہیں کر سکتا۔بیت المال پر میرا کیا حق ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب قرآن کریم نے اجازت دی ہے کہ دینی کام کرنے والوں پر بیت المال کا روپیہ صرف ہو سکتا ہے تو آپ کیوں نہیں لے سکتے۔چنانچہ اس کے بعد بیت المال سے ان کا وظیفہ مقرر ہو گیا مگر اس وقت کے لحاظ سے وہ وظیفہ صرف اتنا تھا کہ جس سے روٹی کپڑے کی ضرورت پوری ہو سکے۔3704 خلافت کے آغاز میں حضرت ابو بکر صدیق کی مشکلات اور خطرات حضرت ابو بکر صدیق کا دور خلافت چاروں خلفائے راشدین میں سے مختصر دور تھا جو کہ تقریباً سوا دو سال پر مشتمل تھا لیکن یہ مختصر سا دور خلافت راشدہ کا ایک اہم ترین اور سنہری دور کہلانے کا مستحق تھا کیونکہ حضرت ابو بکر کو سب سے زیادہ خطرات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا اور پھر خدا تعالیٰ کی غیر معمولی تائید و نصرت اور فضل کی بدولت حضرت ابو بکر کی کمال شجاعت اور جوانمردی اور فہم و فراست سے تھوڑے ہی عرصہ میں دہشت و خطرات کے سارے بادل چھٹ گئے اور سارے خوف امن میں تبدیل