اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 375 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 375

تاب بدر جلد 2 375 حضرت ابو بکر صدیق حضرت ابو بکر نے حضرت زید کو فرمایا کہ میں نے عمرؓ سے کہا ہے کہ تُو وہ کام کیسے کرے گاجور سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا تو عمرؓ نے کہا کہ اس کام میں بخدا خیر ہی خیر ہے۔عمرؓ نے یہ بات مجھ سے اتنی بار کی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے مجھے انشراح صدر عطا فرما دی اور میری بھی عمر کی مانند رائے حضرت زید کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر نے فرمایا اے زید ! یقینا تو ایک جوان اور عقلمند آدمی ہے اور ہم تجھے کسی الزام یا عیب سے پاک سمجھتے ہیں۔تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وحی بھی لکھا کرتے تھے۔پس اب تم قرآن شریف کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر اسے جمع کرو۔حضرت زید کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! اگر وہ کسی پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کی ذمہ داری میرے سپر د کرتے تو وہ میرے لیے قرآن کریم کے جمع کرنے کے حکم سے زیادہ گراں نہ ہوتی۔یہ تو بہت بڑا کام تھا جو میرے سپر د کیا۔میں نے عرض کیا آپ لوگ وہ کام کیسے کریں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا۔حضرت ابو بکر نے فرمایا بخدا! یہ کام سراسر خیر ہے۔حضرت ابو بکر نے اتنی بار یہ بات دہرائی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کام کے لیے انشراح صدر عطا فرما دیا جس کے لیے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کو انشراح صدر عطا فرمایا تھا۔پس میں نے قرآنِ کریم کی تلاش شروع کر دی اور اسے کھجوروں کی شاخوں اور سفید پتھروں اور لوگوں کے سینوں سے اکٹھا کیا۔یہاں تک کہ سورہ توبہ کا آخری حصہ مجھے حضرت ابو خزیمہ انصاری سے ملا جو اُن کے سوا کسی اور سے نہیں ملا جو یہ ہے : لقد جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ ( 1280) یہاں سے لے کر سورہ تو بہ کے آخر تک۔پھر قرآن کریم کے تحریری صحیفے حضرت ابو بکر کی وفات تک انہی کے پاس رہے۔پھر حضرت عمر کی زندگی میں ان کے پاس رہے۔اس کے بعد حضرت حفصہ بنت عمرؓ کے پاس رہے۔872 امام بغوی اپنی کتاب شرح السنہ میں جمع قرآن کی احادیث پر حاشیہ لکھتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جس قرآن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا تھا اسے صحابہ کرام نے من و عن بغیر کسی کمی بیشی کے مکمل جمع کر دیا تھا اور صحابہ کرام کا قرآن مجید کو جمع کرنے کا سبب حدیث میں یہ بیان ہوا ہے کہ پہلے قرآن مجید کھجور کی شاخوں، پتھر کی سلیٹوں، سلوں اور حفاظ کرام کے سینوں میں بکھر اہو ا تھا۔صحابہ کرام کو خدشہ ہوا کہ حفاظ کرام کی شہادت سے قرآن مجید کا کچھ حصہ ضائع نہ ہو جائے اس لیے وہ حضرت ابو بکر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں قرآن مجید کو ایک جگہ جمع کرنے کا مشورہ دیا۔یہ کام سب بہ کرام کے اتفاق سے ہوا لہذا انہوں نے قرآن مجید کو بلا تقدیم و تاخیر جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا ٹھیک ٹھیک اسی طرح مرتب کر دیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام کو قرآن مجید سناتے تھے اور انہیں بالکل اسی ترتیب سے قرآن سکھاتے تھے جس طرح یہ اب ہمارے سامنے مصاحف میں موجود ہے۔یہ ترتیب جبرئیل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھائی تھی۔وہ آپ کو ہر آیت کے نزول پر بتاتے تھے کہ اس آیت کو فلاں سورۃ میں فلاں آیت کے بعد لکھوائیے۔873 صحاب