اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 376 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 376

تاب بدر جلد 2 376 حضرت ابو بکر صدیق 874 قرآن کریم کے جمع کرنے کا کام حضرت ابو بکڑ کے دور میں ہوا۔حضرت علی اس کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت ابو بکر صدیق پر رحمت نازل فرمائے۔وہی ہیں جنہوں نے سب سے پہلے قرآن مجید کو کتابی صورت میں محفوظ کیا تھا۔4 حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جمع قرآن کے حوالے سے ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”جو بات اس وقت تک نہ ہوئی تھی وہ صرف یہ تھی کہ ایک جلد میں قرآن شریف جمع نہیں ہوا تھا۔جب یہ پانچ سو قرآن کا حافظ اس لڑائی یعنی جنگ یمامہ ” میں مارا گیا۔تو حضرت عمر حضرت ابو بکر کے پاس گئے اور انہیں جاکے کہا کہ ایک لڑائی میں پانچ سو حافظ قرآن شہید ہوا ہے اور ابھی تو بہت سی لڑائیاں ہمارے سامنے ہیں۔اگر اور حفاظ بھی شہید ہو گئے تو لو گوں کو قرآن کریم کے متعلق شبہ پیدا ہو جائے گا اس لیے قرآن کو ایک جلد میں جمع کر دینا چاہئے۔حضرت ابو بکر نے پہلے تو اس بات سے انکار کیا لیکن آخر آپ کی بات مان لی۔حضرت ابو بکڑ نے زید بن ثابت کو اس کام کے لیے مقرر کیا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں قرآن کریم لکھا کرتے تھے اور کبار صحابہ ان کی مدد کے لیے مقرر کیے۔گو ہزاروں صحابہ قرآن شریف کے حافظ تھے لیکن قرآن شریف کے لکھتے وقت ہزاروں صحابہ کو جمع کرنا تو ناممکن تھا اس لیے حضرت ابو بکر نے حکم دے دیا کہ قرآن کریم کو تحریری نسخوں سے نقل کیا جائے اور ساتھ ہی یہ احتیاط کی جائے کہ کم سے کم دو حافظ قرآن کے اور بھی اس کی تصدیق کرنے والے ہوں۔چنانچہ متفرق چمڑوں اور ہڈیوں پر جو قرآن شریف لکھا ہوا تھا وہ ایک جگہ پر جمع کر دیا گیا اور قرآن شریف کے حافظوں نے اس کی تصدیق کی۔اگر قرآن شریف کے متعلق کوئی شبہ ہو سکتا ہے تو محض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور اس وقت کے درمیانی عرصہ کے متعلق ہو سکتا ہے مگر کیا کوئی عقلمند یہ تسلیم کر سکتا ہے کہ جو کتاب روزانہ پڑھی جاتی تھی اور جو کتاب ہر رمضان میں اونچی آواز سے پڑھ کر دوسرے مسلمانوں کو حفاظ سناتے تھے اور جس ساری کی ساری کتاب کو ہزاروں آدمیوں نے شروع سے لے کر آخر تک حفظ کیا ہوا تھا اور جو کتاب گو ایک جلد میں اکٹھی نہیں کی گئی تھی لیکن بیسیوں صحابہ اس کو لکھا کرتے تھے اور ٹکڑوں کی صورت میں لکھی ہوئی وہ ساری کی ساری موجود تھی ایسے ایک جلد میں جمع کرنے میں کسی کو دقت محسوس ہو سکتی تھی۔اور پھر کیا ایسے شخص کو دقت ہو سکتی تھی جو خو د رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قرآن کی کتابت پر مقرر تھا اور اس کا حافظ تھا اور جب کہ قرآن روزانہ پڑھا جاتا تھا کیا یہ ہو ہو سکتا تھا کہ اس جلد میں کوئی غلطی ہو جاتی اور باقی حافظ اس کو پکڑ نہ لیتے۔اگر اس قسم کی شہادت پر شبہ کیا جائے تو پھر تو دنیا میں کوئی دلیل باقی نہیں رہتی۔حق یہ ہے کہ دنیا کی کوئی تحریر ایسے تواتر سے دنیا میں قائم نہیں جس تواتر سے قرآن شریف قائم ہے۔8756