اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 374
حاب بدر جلد 2 374 حضرت ابو بکر صدیق متعدد قبائل اور آبادیاں جزیہ کی بنیاد پر اسلامی رعایا بن گئے۔ان سے جو معاہدے ہوئے ان میں اس قسم کی شقیں بھی رکھی گئیں کہ ان کی خانقاہیں اور گرجے منہدم نہیں کیے جائیں گے اور نہ ان کا کوئی ایسا قلعہ گر ایا جائے گا جس میں وہ ضرورت کے وقت دشمنوں کے مقابلے میں قلعہ بند ہوتے ہوں۔ناقوس بجانے کی ممانعت نہ ہو گی اور نہ تہوار کے موقع پر صلیب نکالنے سے روکے جائیں گے۔868 یعنی وہ صلیب کا جلوس بھی نکال سکتے ہیں۔حضرت ابو بکرؓ کے عہد خلافت میں اہل حیرہ کے ساتھ حضرت خالد بن ولید نے جو معاہدہ صلح کیا تھا اس میں دوسری باتوں کے علاوہ یہ بھی عہد کیا گیا تھا کہ ایسا بوڑھا آدمی جو کام سے معذور ہو جائے یا اس پر کوئی مرض یا مصیبت آن پڑے یا جو پہلے مالدار ہو اور پھر ایسا غریب ہو جائے کہ اس کے ہم مذہب اسے خیرات دینے لگیں تو اس کے سر سے جزیہ ساقط کر دیا جائے گا یعنی ختم کر دیا جائے گا اور جب تک وہ دارالہجرت اور دار الاسلام میں رہے گا، جہاں اسلامی حکومت ہے وہاں رہے گا اس کے اور اس کے اہل و عیال کے مصارف مسلمانوں کے بیت المال سے پورے کیے جائیں گے۔البتہ اگر ایسے لوگ دارالہجرت اور دارالاسلام چھوڑ کر باہر چلے جائیں، دوسرے ملکوں میں چلے جائیں تو ان کے اہل و عیال کی کفالت مسلمانوں کے ذمہ نہیں ہو گی۔869 870 ایک روایت کے مطابق اہل حیرہ کے ساتھ حضرت خالد بن ولید کے معاہدہ میں درج تھا کہ محتاجوں، اپاہجوں اور تارک الدنیارا ہیوں کو جزیہ معاف ہو گا۔پھر ایک جمع قرآن کا بہت بڑا کام ہے جو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں ہوا۔جمع قرآن حضرت ابو بکر صدیق کے عہد زریں کا بے مثال اور عظیم کارنامہ ہے۔اس کا پس منظر مسیلمہ کذاب سے ہونے والی جنگ یمامہ سے متصل ہے۔جنگ یمامہ میں بارہ سو مسلمان شہید ہو گئے اور ان میں کبار صحابہ اور حفاظ قرآن کی بھی ایک واضح اکثریت تھی اور ایک روایت کے مطابق حفاظ شہداء کی تعداد سات سو تک بیان ہوئی ہے۔871 چنانچہ اس صورتحال میں حضرت عمرؓ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کے لیے انشراح صدر عطا فرمایا۔آپ نے حضرت ابو بکر سے اس کا تذکرہ کیا جس کی تفصیل صحیح بخاری میں یوں بیان ہوئی ہے : عبید بن سباق بیان کرتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت نے بتایا کہ اہل یمامہ سے جنگ کے بعد حضرت ابو بکڑ نے انہیں بلایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت عمر بن خطاب بھی آپ کے پاس بیٹھے ہیں۔حضرت ابو بکر نے فرمایا عمر میرے پاس آئے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ یمامہ کی جنگ میں قرآنِ کریم کے بہت سے حفاظ شہید ہو گئے ہیں اور میں ڈرتا ہوں کہ مختلف جنگوں میں بہت سے قاری یا حفاظ قرآن شہید ہو جائیں گے جس کے نتیجہ میں قرآن کا بہت سا حصہ ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔اس لیے حضرت عمر نے کہا کہ میری رائے میں آپ جمع قرآن کا حکم دیں۔