اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 23 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 23

اصحاب بدر جلد 2 23 حضرت ابو بکر صدیق آنحضرت صلی ال عالم اپنے صحابہ میں ابو بکر کو زیادہ عزیز رکھتے تھے اور آپ کی وفات کے بعد وہ آپ کے پہلے خلیفہ ہوئے۔اپنی خلافت کے زمانے میں بھی انہوں نے بے نظیر قابلیت کا ثبوت دیا۔حضرت ابو بکر کے متعلق یورپ کا مشہور مستشرق سپر نگر (Sprenger) لکھتا ہے کہ : ابو بکر کا آغاز اسلام میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان لانا اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) خواہ دھوکا کھانے والے ہوں مگر دھو کا دینے والے ہر گز نہیں تھے بلکہ صدقِ دل سے اپنے آپ کو خدا کار سول یقین کرتے تھے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھا ہے کہ سرولیم میور کو بھی سپر نگر کی اس رائے سے اتفاق ہے۔72 حضرت ابو بکر کے ذریعہ اسلام قبول کرنے والے نمایاں اصحاب حضرت ابو بکر کو تبلیغ اسلام اور اس کے نتیجے میں کن آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔اس کے بارے میں اسد الغابہ میں لکھا ہے کہ : جب اسلام آیا تو آپ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور آپ کے ہاتھ پر ایک جماعت نے اسلام قبول کیا اس محبت کی وجہ سے جو اُن لوگوں کو آپ یعنی حضرت ابو بکر سے تھی اور اس میلان کی وجہ سے جو انہیں حضرت ابو بکر کی طرف تھا یہاں تک کہ عشرہ مبشرہ میں سے پانچ صحابہ نے آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔73 حضرت ابو بکر صدیق کی تبلیغ سے اسلام لانے والوں میں حضرت عثمان بن عفان، حضرت زبیر بن عوام، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت طلحہ بن عبید اللہ شامل تھے۔74 اس بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اپنی کتاب سیرت خاتم النبیین میں لکھتے ہیں کہ حضرت خدیجہ، حضرت ابو بکر، حضرت علیؓ اور حضرت زید بن حارثہ کے بعد اسلام لانے والوں میں پانچ اشخاص تھے جو حضرت ابو بکر کی تبلیغ سے ایمان لائے اور یہ سب کے سب اسلام میں ایسے جلیل القدر اور عالی مرتبہ اصحاب نکلے کہ چوٹی کے صحابہ میں شمار کئے جاتے ہیں۔ان کے نام یہ ہیں۔اول حضرت عثمان بن عفان جو خاندان بنو امیہ میں سے تھے۔اسلام لانے کے وقت ان کی عمر قریباً تیس سال کی تھی۔حضرت عمر کے بعد وہ آنحضرت صلی کم کے تیسرے خلیفہ ہوئے۔حضرت عثمان نہایت باحیا، باوفا، نرم دل، فیاض اور دولتمند آدمی تھے۔چنانچہ کئی موقعوں پر انہوں نے اسلام کی بہت بہت مالی خدمات کیں۔حضرت عثمان سے آنحضرت صلی اینم کی محبت کا اندازہ اس بات سے بھی ہو سکتا ہے کہ آپ نے انہیں پے در پے اپنی دولڑکیاں شادی میں دیں جس کی وجہ سے انہیں ذوالنورین کہتے ہیں۔دوسرے عبد الرحمن بن عوف تھے جو خاندان بنو زہرہ سے تھے جس خاندان سے آنحضرت صلی الله علم کی والدہ تھیں۔نہایت سمجھدار اور بہت سلجھی ہوئی طبیعت کے آدمی تھے۔حضرت عثمان کی خلافت کا سوال انہی کے ہاتھوں سے طے ہوا تھا۔اسلام لانے کے وقت ان کی عمر قریباً تیس سال کی تھی۔عہدِ