اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 22
تاب بدر جلد 2 22 حضرت ابو بکر صدیق بارے میں پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ ان کی عمر دس سال تھی۔وہ اپنا اسلام مخفی رکھے ہوئے تھے اور پہلے بالغ عربی شخص جس نے اسلام قبول کیا اور اپنے اسلام کا اظہار کیا وہ حضرت ابو بکر بن ابو قحافہ تھے اور آزاد کردہ غلاموں میں سے جس نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا وہ حضرت زید بن حارثہ تھے۔یہ متفق امر ہے جس میں کوئی اختلاف نہیں۔71 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس بحث کا ذکر کرتے ہوئے جو فرمایا ہے وہ اس طرح ہے کہ آنحضرت صلی الم نے جب اپنے مشن کی تبلیغ شروع کی تو سب سے پہلے ایمان لانے والی حضرت خدیجہ تھیں جنہوں نے ایک لمحے کے لیے بھی تردد نہیں کیا۔حضرت خدیجہ کے بعد مردوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے کے متعلق مورخین میں اختلاف ہے۔بعض حضرت ابو بکر عبد اللہ بن ابی قحافہ کا نام لیتے ہیں۔بعض حضرت علی کما یازید بن حارثہ کا لیکن آپ لکھتے ہیں کہ ہمارے نزدیک یہ جھگڑا فضول ہے۔حضرت علی اور زید بن حارثہ آنحضرت صلی علیکم کے گھر کے آدمی تھے اور آپ کے بچوں کی طرح آپ کے ساتھ رہتے تھے۔آنحضرت صلی علیہ سلم کا فرمانا تھا اور ان کا ایمان لانا تھا۔جو آنحضرت صلی علیم نے فرمایا اس بات کو وہ بچوں کی حیثیت سے مانتے تھے اور ہو سکتا ہے کہ اس وقت یہ بات بھی انہوں نے اس طرح ہی مانی ہو۔پھر آپ لکھتے ہیں کہ ان دونوں بچوں کو نکال دو تو حضرت ابو بکر مسلمہ طور پر مقدم اور سابق بالا یمان تھے۔چنانچہ آنحضرت صلی علیم کے درباری شاعر حسان بن ثابت انصاری حضرت ابو بکر کے متعلق کہتے ہیں کہ إِذَا تَذْكُرْتَ شَجُوا مِنْ أَخِي ثِقَةٍ خَيْرَ الْبَرِيَّةِ أَنْقَاهَا وَأَعْلَلَهَا الثَّانِي الثَّالِيَ الْمَحْمُودَ مَشْهَدُهُ فَاذْكُرْ أَخَاكَ آبَا بَكْرِيمًا فَعَلَا بَعْدَ النَّبِيِّ وَأَوْفَاهَا بِمَا حَمَلًا واولَ النَّاسِ مِنْهُمْ صَدَّقَ الرُّسُلَا یعنی جب تمہارے دل میں کبھی کوئی درد آمیز یاد تمہارے کسی اچھے بھائی کے متعلق پید اہو تو اس وقت اپنے بھائی ابو بکر کو بھی یاد کر لیا کرو۔اس کی ان خوبیوں کی وجہ سے جو یاد رکھنے کے قابل ہیں۔وہ آنحضرت صلی ایم کے بعد سب لوگوں میں سے زیادہ متقی اور سب سے زیادہ منصف مزاج تھا اور سب سے زیادہ پورا کرنے والا تھا اپنی ان ذمہ داریوں کو جو اس نے اٹھائیں۔ہاں ابو بکر و ہی تو ہے جو غارِ ثور میں آنحضرت صلی علیہ نام کے ساتھ دوسرا شخص تھا جس نے اپنے آپ کو آپ کی اتباع میں بالکل محو کر رکھا ا تھا اور وہ جس کام میں بھی ہاتھ ڈالتا تھا اسے خوبصورت بنا دیتا تھا اور وہ ان سب لوگوں میں سے پہلا تھا جو رسول پر ایمان لائے۔حضرت ابو بکر اپنی شرافت اور قابلیت کی وجہ سے قریش میں بہت مکرم و معزز تھے اور اسلام میں تو اُن کو وہ رتبہ حاصل ہو ا جو کسی اور صحابی کو حاصل نہیں۔حضرت ابو بکر نے ایک لمحے کے لیے بھی آنحضرت صلی ال ولیم کے دعویٰ میں شک نہیں کیا بلکہ سنتے ہی قبول کیا اور پھر انہوں نے اپنی ساری توجہ اور اپنی جان اور مال کو آنحضرت صلی للی کام کے لائے ہوئے دین کی خدمت میں وقف کر دیا۔