اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 349 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 349

ناب بدر جلد 2 کے لیے روانہ کیا۔349 حضرت ابو بکر صدیق 804 ایک دوسری روایت میں حضرت ضرار کے لشکر کی تعداد پانچ ہزار بھی بیان ہوئی ہے۔1001 بہر حال حضرت ضرار پانچ سو سپاہیوں کو لے کر یا جو بھی لشکر تھا اس کو لے کر رومی لشکر کی جانب روانہ ہو گئے۔چند سپاہیوں نے رومیوں کا لشکر دیکھ کر آپ سے کہا کہ یہ لشکر بہت بڑا ہے اور ہم صرف پانچ سو ہیں۔بہتر یہی ہے کہ ہم واپس چلیں اور اپنے لشکر کے ساتھ مل کر اس کا مقابلہ کریں۔حضرت خیر اڑ نے کہا دشمن کی کثرت سے مت گھبر اؤ۔خدا نے بہت دفعہ قلت کو کثرت پر غالب کیا ہے۔وہ اب بھی ہماری مدد کرے گا۔ساتھیو ! واپس جانا تو جہاد سے فرار ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔کیا تم عرب کی بہادری اور جاں نثاری کو داغ لگاؤ گے ؟ جسے واپس جانا ہو چلا جائے۔میں تو لڑوں گا۔اسلام کے نام کو بلند کروں گا۔خدا مجھے بھاگتے ہوئے نہ دیکھے۔تمام مسلمان یک زبان ہو کر بولے کہ ہم اسلام پر شار ہوں گے۔شہادت کا مرتبہ پائیں گے یعنی کہ ہم تیار ہیں جنگ کے لیے۔حضرت ضر الا خوش ہو گئے۔حکم دیا کہ دشمن پر ایک ہی بار حملہ کر کے اسے تہس نہس کر دو۔مسلمان اور حضرت ضراڑ نے رومی لشکر پر مسلسل وار کیے اور بہادری سے لڑائی کی۔رومی سپہ سالار کے بیٹے نے حضرت ضرار پر حملہ کیا اور آپ کے بائیں بازو پر نیزہ مارا جس کی وجہ سے خون تیزی سے بہنے لگا۔ایک لمحہ کے بعد آپ نے اسی کے دل پہ نیزہ مار کر اسے قتل کر دیا۔آپ کا نیزہ اس کے سینے میں پھنس گیا اور اس کا پھل ٹوٹ گیا۔رومی فوج نے آپ کا نیزہ خالی دیکھا تو آپ کی طرف ٹوٹ پڑے اور آپ کو قید کر لیا۔805 کیونکہ ہاتھ میں ہتھیار نہیں تھا۔خولہ بنت ازوڑ کی شجاعت صحابہ کرام نے جب دیکھا کہ حضرت ضرار قید ہو گئے ہیں تو بہت غمگین اور پریشان ہو گئے۔انہوں نے کئی دفاعی حملے کیے مگر ان کو چھڑانہ سکے۔حضرت ضرار کی گرفتاری کی خبر جب حضرت خالد کو پہنچی تو آپ بہت پریشان ہوئے اور ساتھیوں سے رومی لشکر کے متعلق معلومات لے کر حضرت ابو عبیدہ سے مشورہ کیا اور حملے کے متعلق رائے لی۔حضرت ابو عبیدہ نے فرمایا کہ دمشق کے محاصرہ کا معقول انتظام کر کے آپ حملہ کر سکتے ہیں۔کمانڈر کیونکہ اس وقت حضرت ابو عبیدہ تھے۔حضرت خالد نے محاصرہ کا انتظام کرنے کے بعد اپنے ساتھیوں کے ساتھ دشمن کا تعاقب کیا اور ان کو ہدایت کی کہ جیسے ہی دشمن ملے اس پر اچانک حملہ کرنا۔اگر ضرار کو ان لوگوں نے قتل نہ کیا ہو تو شاید ہم ضرار کو چھڑا لائیں گے اور اگر غیر ار کو شہید کیا ہو تو بخدا ہم ان سے بھر پور انتقام لیں گے۔تاہم مجھے امید ہے کہ اللہ ہم کو ضرار کے متعلق صدمہ نہیں دے گا۔اسی دوران حضرت خالد نے ایک شہسوار کو سرخ عمدہ گھوڑے پر دیکھا جس کے ہاتھ میں لمبا چمکدار نیزہ تھا۔اس کی وضع قطع سے بہادری، دانائی اور جنگی مہارت نمایاں تھی۔زرہ