اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 348 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 348

ناب بدر جلد 2 348 حضرت ابو بکر صدیق کریں گے۔حضرت ابو عبیدہ نے کہا کہ میری رائے اس کے بر عکس ہے کیونکہ میں دن تک قلعہ میں محصور رہنے کی وجہ سے اہل دمشق تنگ آگئے ہیں اور ہمارا رعب ان کے دلوں میں سما گیا۔اگر ہم یہاں سے کوچ کر گئے تو ان کو راحت حاصل ہو گی اور وہ کھانے پینے کی چیزیں قلعہ میں کثیر تعداد میں ذخیرہ کر لیں گے اور جب ہم اجنادین سے یہاں واپس آئیں گے تو یہ لوگ طویل عرصہ تک ہمارا مقابلہ کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔حضرت خالد نے حضرت ابو عبیدہ کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے محاصرہ جاری رکھا اور دمشق کے قلعہ کے متفرق دروازوں پر مسلمانوں کے تمام متعین سرداروں کو حکم دیا کہ اپنی اپنی طرف سے حملہ میں شدت اختیار کریں۔حضرت خالدہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ہر جانب سے اسلامی لشکر نے شدید حملے شروع کیے۔اس طرح دمشق کے محاصرے پر اکیس دن گزر گئے۔حضرت خالد نے مسلمانوں کو حملہ کی شدت بڑھانے کی ترغیب دیتے ہوئے خود باب شرقی سے سخت حملے جاری رکھے۔اہل دمشق اب بالکل تنگ آگئے تھے اور ھر قل بادشاہ کی مدد کے منتظر تھے۔حضرت خالد نے پے در پے حملے جاری رکھے۔وہ اسی طرح مصروف جنگ تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ قلعہ کی دیوار پر جو رومی تھے وہ دفعہ تالیاں بجا کر ناچنے کو دنے لگے اور خوشی کا اظہار کرنے لگے۔مسلمان حیرت سے ان کو دیکھنے لگے۔حضرت خالد بن ولید نے ایک جانب دیکھا تو ایک بڑا غبار اس طرف اٹھتا ہوا نظر آیا۔اس کی وجہ سے آسمان تاریک نظر آتا تھا۔دن کے وقت میں بھی اندھیرا چھایا ہوا دکھائی دیتا تھا۔حضرت خالد "فورا سمجھ گئے کہ اہل دمشق کی مدد کے لیے بھر قل بادشاہ کا لشکر آرہا ہے۔تھوڑی ہی دیر میں چند مخبروں نے اس خبر کی تصدیق بھی کر دی کہ ہم نے پہاڑ کی گھائی کی طرف ایک لشکر جرار دیکھا ہے اور وہ بے شک رومیوں کا لشکر ہے۔حضرت خالدہ فوراً آئے اور حضرت ابو عبیدہ کو صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے یہ ارادہ کیا ہے کہ تمام لشکر لے کر ھر قل بادشاہ کے بھیجے ہوئے لشکر سے مقابلہ کے لیے جاؤں۔لہذا اس امر میں آپ کا مشورہ کیا ہے؟ حضرت ابوعبیدہ نے فرمایا کہ یہ مناسب نہیں ہے کیونکہ اگر ہم نے اس جگہ کو چھوڑ دیا تو اہل دمشق قلعہ سے باہر آکر ہم سے جنگ کریں گے۔ایک طرف سے ھر قل کا لشکر حملہ آور ہو گا اور دوسری طرف سے اہل دمشق حملہ کریں گے۔ہم رومیوں کے دو لشکروں کے درمیان مصیبت میں پھنس جائیں گے۔حضرت ضرار بن ازور اس پر حضرت خالد نے کہا پھر آپ کی کیا رائے ہے ؟ حضرت ابو عبیدہ نے فرمایا تم ایک جری اور شخص کا انتخاب کرو اور اس کے ساتھ ایک جماعت کو دشمن کے مقابلے کے لیے روانہ کرو۔چنانچہ حضرت خالد بن ولید نے حضرت ضرار بن ازور کو پانچ سو سواروں کا لشکر دے کر رومی لشکر سے مقابلے بہادر