اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 302 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 302

اصحاب بدر جلد 2 302 حضرت ابو بکر صدیق بنائی گئی باتیں ہیں۔اور ایک مصنف نے جو بہت آزادانہ رائے رکھتے ہوئے تاریخ کو بیان کرتے ہیں اور قابل اعتراض حد تک ایسی باتیں بھی بیان کر جاتے ہیں کہ جس سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا وہ بھی اس واقعہ کا تذکرہ کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ راویوں نے یہ روایت بیان کر کے مبالغہ آرائی کی انتہا کر دی ہے۔اتنا یقینی ہے کہ خالد نے قتل دشمنانِ اسلام میں اتنا تشد د برتا تھا کہ اسے دیکھ کر قعقاع اور اس کے ساتھیوں سے رہا نہ گیا۔721 اسی طرح ایک مصنف نے اس واقعہ کو بیان کیا ہے۔یعنی سختی تو کی تھی قیدیوں پر لیکن قتل کرنا یہ غلط ہے۔اسی طرح ایک مصنف نے اس واقعہ کو بیان کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عملاً یا حقیقی طور پر ایرانیوں کو نہر میں قتل کر کے پھینکا نہیں گیا تھا۔چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ حضرت خالد نے پھرتی سے حملے کر کے عیسائیوں کو اس طرح کاٹنا اور ایرانی صفوں کو زیر و زبر کرنا شروع کیا جیسے وہ مٹی کے بنے ہوئے ہوں اور گوشت پوست کے انسان نہ ہوں۔چونکہ ایرانی لمبائی میں دور تک پھیلے ہوئے تھے اس لیے انہوں نے ہلالی صورت میں آدھا دائرہ بنالیا تھا اور بڑھ کر مسلمانوں کو نرغے میں لے لیا۔اب صورت یہ ہو گئی کہ مسلمانوں کے چاروں طرف ایرانی اور عیسائی عرب چھا گئے اور بڑے جوش سے لڑنے لگے لیکن جس جوش و خروش سے مسلمان لڑ رہے تھے وہ عیسائیوں میں نہیں تھا۔ہر مسلمان خونخوار شیر بن گیا اور زور دار حملے کر کے عیسائیوں کو گھاس پھوس کی طرح کاٹ رہا تھا۔اگر چہ ایرانی بھی مسلمانوں کو شہید اور زخمی کر رہے تھے لیکن مسلمان بہت کم گر رہے تھے اور جو زخمی ہوتا وہ اور بھی جوش کے ساتھ لڑنے لگتا تھا۔ایرانی اس کثرت سے مر رہے تھے کہ ان کی لاشوں سے میدان اٹا پڑا تھا اور جو ایرانی زخمی ہو جاتا تھا وہ میدان جنگ سے ہٹ جاتا تھا۔مسلمانوں نے اس قدر خونریزی کی کہ ان کے کپڑوں پر خون کے دھبے جم گئے۔خالد بن ولید کے کپڑوں کا بھی یہی حال تھا۔ایرانیوں کے خون سے زمین سیراب ہو گئی اور فالتو خون پانی کی طرح بہنے لگا۔آخر ایرانیوں کو ہر سمت ہوئی اور وہ بدحواس ہو کر بھاگے۔مسلمان ان کے پیچھے لگ گئے اور دور تک انہیں قتل اور گرفتار کرتے چلے گئے اور ایرانی ایسے بدحواس ہو کر بھاگے کہ ان کے ہزاروں سپاہی دریا میں گر کر ڈوب گئے۔جب ایرانی دور نکل گئے تب مسلمان واپس لوٹے۔اس لڑائی میں ستر ہزار ایرانی مارے گئے۔مسلمان ایک سواڑ تمیں شہید ہوئے۔بہر حال مورخین کو اس بات پر بھی حیرت ہوتی ہے کہ مسلمانوں نے ایرانیوں کی اتنی بڑی تعداد کو کیسے مار ڈالا۔722 ایک تاریخ نگار نے یہ لکھا ہے۔اس حوالے سے صاف نظر آتا ہے کہ اگر نہر کے پانی کے سرخ ہو جانے والے واقعہ کو درست تسلیم بھی کر لیا جائے تو وہ لوگ جن کی وجہ سے نہر خون سے سرخ ہو گئی وہ انہیں زخمی سپاہیوں کے ڈوبنے کی وجہ سے بھی تو ہو سکتی تھی۔لہذا کہا جا سکتا ہے کہ ایسے واقعات میں مبالغہ آرائی کی آمیزش بھی کسی حد تک شامل ہو گئی جس کی بنا پر اسلامی جنگوں اور حضرت خالد بن ولید کی ذات پر رکیک حملے کرنے والوں کو مواقع ملے۔یا جنگوں میں مسلمانوں پر وحشیانہ طرز اختیار کرنے کا