اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 303 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 303

حاب بدر جلد 2 303 حضرت ابو بکر صدیق الزام لگایا گیا۔بہر حال اللہ بہتر جانتا ہے لیکن بظاہر یہی لگتا ہے کہ صرف الزام لگایا گیا۔بہر حال جب دشمن ہزیمت اٹھا چکا اور اس کی فوج پراگندہ ہو گئی اور مسلمان ان کے تعاقب سے فارغ ہو کر واپس آ گئے تو حضرت خالد کھانے کے پاس آکر کھڑے ہوئے اور کہا یہ میں تم لوگوں کو دیتا ہوں یہ تمہارے لیے ہے کیونکہ رسول اللہ صلی الی یکم غزوات میں جب میدان چھوڑ کر بھاگنے والے دشمن کا تیار کھانا پاتے تو اس کو اپنی فوج میں تقسیم کر دیتے تھے۔چنانچہ مسلمان رات کے کھانے کے طور پر اسے کھانے لگے اُنیس کی جنگ میں دشمن کے ستر ہزار آدمی ہلاک ہوئے جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے۔723 امْغِيشِیا کی فتح آمْغیشیا کی فتح کے بارے میں لکھا ہے۔آمْغِیشیا کو اللہ نے صفر بارہ ہجری میں جنگ کے بغیر ہی فتح کرا دیا تھا۔آمغیشیا عراق میں ایک جگہ کا نام ہے۔جب حضرت خالد آلیس کی فتح سے فارغ ہو گئے تو آپ نے تیاری کی اور آمغیشیا آئے مگر آپ کے آنے سے قبل ہی وہاں کے باشندے جلدی سے بستی چھوڑ کر بھاگ گئے اور سواز میں منتشر ہو گئے۔عراق میں وہ بستیاں جن کو مسلمانوں نے حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں فتح کیا تو وہاں کھیتوں میں سر سبزی کی وجہ سے اسے سواد کا نام دیا گیا۔حضرت خالد نے أَمْغِیشیا اور اس کے قرب وجوار میں جو کچھ بھی تھا اسے منہدم کرنے کا حکم دیا۔آمْغِيشِيَا جِيرَہ کے برابر کا شہر تھا۔اُنیس اس مقام کی فوجی چوکی تھی۔مسلمانوں کو آمغیشیا سے اس قدر مال غنیمت حاصل ہوا کہ ذات السلاسل سے لے کر اب تک کسی جنگ میں حاصل نہیں ہوا تھا۔اس جنگ میں گھڑ سواروں کا حصہ پندرہ سو درہم تھا اور یہ حصہ ان اموال غنیمت کے علاوہ تھا جو کار ہائے نمایاں انجام دینے والوں کو دیا گیا تھا۔انیس اور انفیشیا کی فتح کی اطلاع حضرت خالد نے بنو عجل کے ایک جنگل نامی شخص کے ذریعہ روانہ کی تھی جو ایک بہادر گائیڈ کے طور پر مشہور تھے۔انہوں نے حضرت ابو بکر کی خدمت میں پہنچ کر الیس کی فتح کی خوشخبری، مال غنیمت کی مقدار ، قیدیوں کی تعداد، مخمس میں جو چیزیں حاصل ہوئی تھیں اور جن لوگوں نے کار ہائے نمایاں انجام دیے تھے۔ان سب کی تفصیل اور خاص طور پر حضرت خالد کی بہادری کے کارنامے بہت عمدگی سے بیان کیے۔حضرت ابو بکر کو ان کی شجاعت، پختہ رائے اور فتح کی خبر سنانے کا یہ انداز بہت پسند آیا یعنی جو نمائندہ بھیجا تھا اس کا جو طریق تھا اور اس کی بہادری کے قصے تھے اور جو انداز بیان تھا اس کا ، وہ حضرت ابو بکر کو بڑا پسند آیا۔آپ نے اس سے پوچھا تمہارا نام کیا ہے ؟ اس نے عرض کیا میرا نام جندل ہے۔آپ نے فرمایا بہت خوب جندل۔اور پھر آپؐ نے اس کو مالِ غنیمت میں سے ایک لونڈی دینے کا حکم دیا جس سے اس کے ہاں اولاد پیدا ہوئی۔اسی طرح اس موقع پر حضرت ابو بکڑ نے فرمایا: اب عور تیں حضرت خالد بن ولید جیسا شخص پیدا نہیں کر سکیں گی۔724