اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 301 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 301

اصحاب بدر جلد 2 719 301 حضرت ابو بکر صدیق حضرت خالد نے جنگی چال چلتے ہوئے فوج کو دائیں اور بائیں جانب سے ایرانی لشکر کے عقب پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔اس حملے سے ایرانی لشکر تتر بتر ہو گیا اور اسے بھاگنے یا ہتھیار ڈالنے میں ہی عافیت نظر آئی۔حضرت خالد نے حکم دیا کہ دشمن کو پکڑ کر قیدی بنالو اور مقابلہ کرنے والوں کے سوا کسی کو قتل نہ کرو۔صرف ان کو قتل کرنا جو مقابلہ کرتے ہیں۔اس بارے میں ریسرچ سیل کا ایک نوٹ ہے اور میں نے بھی دیکھا ہے۔یہی بات صحیح لگتی ہے۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے تاریخ طبری سمیت اکثر سیرت نگاروں اور مورخین نے ذکر کیا ہے کہ حضرت خالد نے اپنی اس دعا میں جو عہد کیا تھا اس کے مطابق ایک دن اور ایک رات ان قیدیوں کو قتل کر کے نہر میں ڈالا گیا تا کہ اس کا پانی خون سے سرخ ہو جائے یعنی انہوں نے نہ صرف جنگ کرنے والوں سے جنگ لڑی بلکہ قیدیوں کو بھی قتل کر دیا اور اس وجہ سے یہ نہر آج تک نفرُ الله یعنی خون کی نہر کے نام سے مشہور ہے۔720 لیکن بہر حال یہ حقیقت نہیں لگتی کہ قیدیوں کو قتل کر کے پھر نہر میں خون پھینکا گیا ہو اور سیرت نگاروں نے اس میں کچھ تساہل یا مبالغہ سے کام لیا ہے یا عین ممکن ہے کہ وہ ذہن جو اسلامی جنگوں میں جان بوجھ کر ظلم و بربریت کی جھوٹی کہانیاں شامل کرنے کا بیڑہ اٹھائے ہوئے تھے انہوں نے جہاں موقع ملا اپنی طرف سے ایسے واقعات کو شامل کر دیا تھا۔تاریخ نگاروں میں بعض دشمن بھی تھے تو ایسے دشمنی رکھنے والے یا کینہ رکھنے والے جو مسلمانوں کے خلاف کوئی نہ کوئی ایسی بات لکھ دیا کرتے تھے انہوں نے لکھ دیا ہو کہ قیدیوں کو قتل کر کے نہر میں بہا دیا لیکن بظاہر یہ لگتا ہے کہ بہر حال ایسی کوئی بات شامل کی گئی ہے تاکہ دجل اور فریب سے لوگوں کے سامنے یہ پیش کریں کہ دیکھیں کس طرح مسلمانوں نے ظلم و ستم کیے اور نہتے قیدیوں کو قتل کیا گیا۔ہر چند کہ اول تو قیدیوں کو قتل کرنا اس وقت کے قواعد وضوابط اور جاری جنگی اصولوں کی رو سے کوئی قابل اعتراض امر بھی نہیں تھا لیکن اسلامی جنگوں نے خصوصاً آنحضرت علی ایم کے عہد مبارک اور عہد خلافت راشدہ کی جنگوں میں واقعہ ایسا ہوا بھی نہیں کہ قیدیوں اور میں واقعہ ہوا کہ کو اس طرح قتل کیا گیا ہو۔ہر چند کہ ان جنگوں میں ہزاروں لاکھوں تک مقتولین کی تعداد ملتی ہے لیکن یہ سب وہ تھے کہ جو حالت جنگ میں مارے گئے تھے۔حضرت خالد بن ولید جیسے سپہ سالار کی جنگوں کا مطالعہ کیا جائے تو انہوں نے بھی جہاں تک ممکن ہو ا میدان جنگ میں بھی ہر اس شخص کی جان بخشی ہی کی ہے جس نے ہتھیار پھینک دیے یا اطاعت قبول کر لی اور جس کو بھی قتل کیا باوجو د تاریخ نگاروں کی افسانہ طرازی کے تحقیق کرنے پر اس کے قتل کی ٹھوس وجوہ اور اسباب موجود پائے گئے ہیں۔بہر حال اس واقعہ کو دیکھا جائے تو یہ بھی کچھ بناوٹی قصہ زیادہ معلوم ہوتا ہے کیونکہ مورخین اور سیرت نگار جو کہ ان جگہوں کی تمام تر تفصیلات بیان کرتے ہیں اور بیان کرتے ہوئے ہر چھوٹی سے چھوٹی بات کا بھی ذکر کرتے ہیں ان میں سے بعض نے اس واقعہ کا سرے سے ذکر ہی نہیں کیا اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ