اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 297 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 297

اصحاب بدر جلد 2 297 حضرت ابو بکر صدیق 710 جنہوں نے نمایاں کارنامے سر انجام دیے تھے اور خمس کے باقی حصہ کو ایک وفد کے ساتھ حضرت سعید بن نعمان کی سرکردگی میں مدینہ روانہ کر دیا۔ایک روایت کے مطابق اس جنگ میں تیس ہزار ایرانی قتل ہوئے اور یہ ان کے علاوہ ہیں جو نہر میں ڈوب کر مر گئے اور کہا جاتا ہے کہ اگر یہ پانی مانع نہ ہو تا توان میں سے ایک بھی نہ بچتا۔پھر بھی جو لوگ بچ کر بھاگے وہ بہت پراگندہ حال اور اپنا سب کچھ چھوڑ کر بھاگے۔جنگ کے بعد لڑائی میں حصہ لینے والوں اور ایرانی فوج کی حمایت کرنے والوں کو مع اہل و عیال کے قید کر لیا گیا۔ان قیدیوں میں ابو الحسن بصری بھی شامل تھے۔ابوالحسن بصری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ امام حسن بصری کے والد تھے جو کہ بصرہ کے مشہور واعظ اور صوفی تھے، مسلمان ہوئے۔کہا جاتا ہے کہ ابو الحسن بصری کو قید کرنے کے بعد مدینہ لایا گیا جہاں ان کی مالکہ نے انہیں آزاد کر دیا تھا۔10 اس فتح کے بعد عام رعایا سے بے حد نرمی کا سلوک کیا گیا۔کاشتکاروں اور ان تمام لوگوں کو بغیر کسی قسم کی تکلیف پہنچائے جزیہ کی ادائیگی پر آمادہ کر دیا گیا اور انہیں ان کی زمینوں اور جگہوں پر بر قرار رکھا گیا۔ان ابتدائی امور سے فراغت حاصل کر کے حضرت خالد نے مفتوحہ علاقے کے نظم ونسق کی طرف توجہ کی۔جزیہ وصول کرنے کے لیے جابجا مثال مقرر کیے گئے۔مفتوحہ علاقے کی حفاظت کے لیے انہوں نے حفیر اور جسرِ اعظم یعنی سب سے بڑے پل پر فوجیں متعین کر رکھی تھیں۔ان کا انتظام اور بہتر بنایا گیا اور فوجوں کے تمام دستوں کو مختلف افسروں کے زیر نگرانی دے کر انہیں دشمنوں کی خفیہ اور اعلانیہ سرگرمیوں سے خبر دار رہنے اور موقع پڑنے پر ان کا مقابلہ کرنے کا حکم دے دیا گیا۔خالد کی جنگی مہارت کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا کہ سرزمین ایران میں ان کی پیش قدمی کے آغاز ہی سے کسریٰ کی طاقتور فوجیں مغلوب ہونی شروع ہو گئیں اور ان کے دم خم ، حوصلے اور ولولے سب سرد پڑ گئے۔جنگ مدار ، حیرہ سے کچھ ہی فاصلے پر ہوئی تھی۔حیرہ خلیج اور مدائن کے تقریباً 711 درمیان میں واقع ہے۔اس جنگ کے بعد کے معاملات سے فارغ ہونے کے بعد حضرت خالد بن ولید دشمن کی نقل و 712 حرکت کی خبروں کی جستجو میں لگ گئے۔تا کہ دیکھیں دشمن کی کیا موومنٹ ہے۔وہ دوبارہ اسلام کے خلاف اکٹھے تو نہیں ہو رہے؟ جنگ و تجه جنگ و تجہ ایک جنگ ہے۔جنگ و تجہ۔صفر بارہ ہجری میں ہوئی۔وَلَجہ، گنگر کے قریب خشکی کا علاقہ ہے۔جنگ مزار میں ایرانیوں کو جس شرمناک شکست کا سامان کرنا پڑا کہ اس میں ان کے بڑے بڑے سردار بھی مارے گئے تھے۔اس پر ایرانی شہنشاہ نے ایک اور حکمت عملی طے کرتے ہوئے اور زیادہ تیاری کے ساتھ مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کی منصوبہ بندی کی۔چنانچہ ایرانی حکومت نے عراق میں