اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 296
ہے محاب بدر جلد 2 296 حضرت ابو بکر صدیق اس واقعہ کے روز لوگوں کی زبان پر یہ فقرہ تھا کہ صفر کا مہینہ آگیا ہے اور اس میں ہر ظالم سرکش قتل ہو گا جہاں دریا اکٹھے ہوتے ہیں۔ہر مُز ذات السلاسل کی جنگ میں حضرت خالد بن ولید کے مد مقابل تھا اس نے اپنے بادشاہ کو مدد کے لیے لکھا تھا۔بادشاہ نے اس کی مدد کے لیے قارن کی قیادت میں ایک لشکر بھیجا مگر وہ لشکر ابھی مذاز کے مقام پر پہنچا تھا کہ اس کو جنگ ذات السلاسل میں ہر مز کی شکست کی اور اس کے مارے جانے کی اطلاع ملی اور ساتھ ہی ہر مز کی فوج کے شکست کھائے ہوئے دستے بھی مذاز میں قارن سے آملے اور ان میں سے بعض دستوں کے سپاہیوں نے دوسرے دستوں کے سپاہیوں سے کہا کہ اگر آج تم متفرق ہو گئے تو پھر بھی جمع نہیں ہو سکو گے۔اس لیے ایک دم واپسی کے لیے اکٹھے ہو جاؤ۔وہ دوڑی ہوئی فوج جو تھی وہ بھی اور جو نئی کمک آرہی تھی یا نئی فوج جو ایران سے آرہی تھی دونوں مل گئے اور دونوں نے ایک دوسرے کو اس بات پر جوش دلایا کہ جنگ ہونی چاہیے۔جو دوڑے ہوئے تھے انہوں نے کہا یہ بادشاہ کی مدد پر مشتمل نیا لشکر آن پہنچا ہے۔اور یہ اس کا سپہ سالار قارن ہمارے ساتھ ممکن ہے کہ خدا ہمیں غلبہ عطا کرے اور ہمارے دشمن سے ہمیں نجات عطا فرمائے اور ہم اپنے نقصانات کی کسی قدر تلافی کر لیں۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور انہوں نے مذاز میں پڑاؤ ڈال دیا۔قارن نے ہر اول دستے پر قباذ اور آنُوشجان کو مقرر کیا جو جنگ ذات السلاسل میں فرار ہو گئے تھے۔دوسری طرف دشمن کی اس تیاری کی اطلاع حضرت متلی اور حضرت معلٰی نے حضرت خالد بن ولید ھو بھیج دی۔حضرت خالد نے قارن کی اطلاع پاتے ہی معرکہ ذات السلاسل میں حاصل ہونے والا مالِ غنیمت انہی مجاہدین میں تقسیم کر دیا جن کو خدا نے وہ مال غنیمت دیا تھا اور مخمس میں سے مزید جس قدر چاہا دیا اور معرکہ ذات السلاسل میں حاصل ہونے والا باقی مال غنیمت اور اس معرکے میں جو فتح ہوئی تھی اس کی خوشخبری حضرت ابو بکر کی خدمت میں بھجوا دی اور اس امر سے بھی مطلع کر دیا کہ معرکہ ذات السلاسل میں دشمنوں کی ہزیمت خوردہ افواج اور قارن کی سربراہی میں آنے والا نیا لشکر ایک جگہ جمع ہو رہے ہیں۔چنانچہ حضرت خالد روانہ ہوئے اور مذاز میں قارن کی فوج کے مقابلے پر آئے اور اپنی فوج کی صف آرائی کی۔دونوں طرف سے مقابلہ ہوا۔دونوں حریفوں کی نہایت غیظ و غضب کی حالت میں مدھ بھیڑ ہوئی۔قارن مبارزت کے لیے میدان میں نکلا۔دوسری طرف سے اس کے مقابل کے لیے حضرت خالد اور حضرت معقل بن آغشئی آگے بڑھے۔دونوں قارن کی طرف لیکے مگر حضرت معقل نے حضرت خالد سے پہلے قارن کو جالیا اور اسے قتل کر دیا۔حضرت عاصم نے انوشجان کو اور حضرت عدی نے قباذ کو قتل کر دیا۔ان تینوں سرداروں کے مارے جانے سے ایرانی حوصلہ ہار بیٹھے اور میدان چھوڑ کر بھاگنے لگے۔اس جنگ میں اہل فارس کی بہت بڑی تعد اد ماری گئی اور جو لوگ پسپا ہوئے وہ اپنی کشتیوں میں سوار ہو کر بھاگے۔حضرت خالد نے مدار میں قیام کیا اور ہر مقتول کا سامان خواہ وہ کسی قیمت کا ہو اسی مجاہد کو عطا کیا جس نے اسے قتل کیا تھا اور مال فے کو بھی ان میں تقسیم کیا نیز خمس میں سے ان لوگوں کو حصہ دیا