اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 298
حاب بدر جلد 2 298 حضرت ابو بکر صدیق بسنے والے عیسائیوں کے ایک بہت بڑے قبیلہ بکر بن وائل کے سر کردہ لوگوں کو دربار ایران میں بلایا اور ان کو مسلمانوں کے ساتھ لڑنے پر آمادہ کر کے ایک لشکر ترتیب دیا اور اس لشکر کی قیادت ایک مشہور شہسوار اندرز عز کے ہاتھ میں دی اور یہ لشکر ولجہ کی طرف روانہ ہو گیا۔عراق میں عیسائیوں کا ایک بہت بڑا قبیلہ بکر بن وائل آباد تھا۔شہنشاہ اردشیر نے انہیں طلب کیا اور ان کی ایک فوج مرتب کر کے انہیں مسلمانوں سے معرکہ آرائی کے لیے ولجہ کی جانب روانہ کر دیا۔حیرہ اور گشگر کے نواحی علاقوں کے لوگ اور کسان بھی اس لشکر کے ساتھ مل گئے۔حیرہ کو فہ سے تین میل جنوب مغرب میں ایک شہر ہے۔گشگر کوفہ اور بصرہ کے درمیان ایک قصبہ تھا۔بہر حال لیکن اس خیال سے کہ مسلمانوں پر فتح یابی کا فخر مکمل طور پر عیسائی عربوں کے حصہ میں نہ آئے اپنے ایک بڑے سپہ سالار بهمن جَاذْوَیہ کو بھی ایک بھاری لشکر کے ساتھ ان کے پیچھے ہی روانہ کر دیا۔713 جب اس فارسی سردار کو یہ محسوس ہوا کہ ان کی فوج بہت بڑی ہو گئی ہے تو اس نے حضرت خالد بن ولید پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔جب حضرت خالد بن ولید کو فارسی فوج کے وَلَجہ میں جمع ہونے کی خبر ملی اس وقت آپ بصرہ کے قریب تھے۔آپ نے مناسب سمجھا کہ فارسی فوج پر تین جہات سے حملہ کریں تاکہ ان کی جمعیت منتشر ہو جائے اور اس طرح اچانک حملے سے فارسی فوج پریشانی کا شکار ہو جائے۔714 چنانچہ آپ نے سوید بن مقرن کو قائمقام مقرر کیا اور انہیں حفیر میں ہی قیام پذیر ہونے کا حکم دیا اور ان لوگوں کے پاس پہنچے جن کو دجلہ کے زیریں جانب چھوڑا ہو ا تھا۔ان کو حکم دیا کہ دشمن سے ہر وقت چوکنے رہیں اور غفلت اور فریب میں مبتلا نہ ہوں اور اپنی فوج کو لے کر وتجہ کی طرف پیش قدمی کی اور دشمن کے لشکر اور اس کی معاون جماعتوں کے مقابلے پر اترے اور شدید ترین جنگ ہوئی۔حضرت خالد بن ولید نے فوج کے دونوں طرف مجاہدین کے ذریعہ گھات لگارکھی تھی۔آخر کار گھات لگائے ہوئے دونوں دستے دونوں طرف سے دشمن پر حملہ آور ہوئے۔ایرانیوں کی فوجیں شکست کھا کر بھاگیں مگر حضرت خالد بن ولید نے سامنے سے اور گھات لگائے ہوئے دونوں دستوں نے پیچھے سے ان کو ایسا گھیرا کہ وہ بوکھلا گئے یہاں تک کہ کسی کو اپنے ساتھی کے قتل کی بھی پروانہ رہی۔دشمن فوج کا سپہ سالار ہزیمت خوردہ ہو کر بالآخر مارا گیا۔کاشتکاروں کے ساتھ حضرت خالد بن ولید نے وہی سلوک کیا جو ان کا طریق تھا یعنی ان میں سے کسی کو قتل نہیں کیا۔صرف جنگجو لو گوں کی اولاد اور ان کے معاونین کو گرفتار کیا اور عام باشندگان ملک کو جزیہ دینے اور ذقی بن جانے کی دعوت دی جس کو ان لوگوں نے قبول کر لیا۔5 715