اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 11 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 11

صحاب بدر جلد 2 11 حضرت ابو بکر صدیق رسول کریم ملی ایم کی بعثت کے وقت حضرت ابو بکر شکار اس المال چالیس ہزار درہم تھا۔آپ اس میں سے غلاموں کو آزاد کرواتے اور مسلمانوں کی خبر گیری کرتے رہے یہاں تک کہ جب آپ مدینہ تشریف لائے تو اس وقت آپ کے پاس پانچ ہزار درہم باقی تھے۔43 قریش میں اعلیٰ مقام کے حامل اسلام سے قبل کے بعض واقعات ہیں۔حضرت ابو بکر اپنی مالی وسعت اور اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے قریش میں اعلیٰ مقام کے حامل تھے۔آپ رؤسائے قریش میں سے تھے اور ان کے مشوروں کے محور تھے۔آپ سب سے زیادہ پاکیزہ اور نیک لوگوں میں سے تھے۔آپ رئیس، معزز، سخی تھے اور بکثرت اپنا مال خرچ کیا کرتے تھے۔اپنی قوم میں ہر دلعزیز اور محبوب تھے۔اچھی مجلسوں والے تھے۔الله تعبیر الرؤیا اور حسب و نسب کے عالم آپ تعبیر الرؤیا میں لوگوں سے زیادہ علم رکھنے والے تھے یعنی آپ کا اس بارے میں بہت علم تھا۔تعبیر الرؤیا کے بہت بڑے عالم ابن سیرین کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی یکم کے بعد حضرت ابو بکر اس امت کے سب سے بڑے تعبیر الرؤیا کے عالم تھے اور آپ لوگوں میں سب سے زیادہ اہل عرب کے سب و نسب کو جاننے والے تھے۔جبير بن مطعم جو کہ اس فن، علم الانساب میں کمال تک پہنچے ہوئے تھے انہوں نے کہا کہ میں نے نسب کا علم حضرت ابو بکر سے سیکھا ہے۔خاص طور پر قریش کا حسب و نسب کیونکہ حضرت ابو بکر قریش میں سے قریش کے حسب و نسب اور جو اچھائیاں اور برائیاں ان کے نسب میں تھیں ان کا آپ سب سے زیادہ علم رکھنے والے تھے اور آپ ان کی برائیوں کا تذکرہ نہیں کرتے تھے یعنی حضرت ابو بکر برائیوں کا تذکرہ نہیں کرتے تھے۔اسی وجہ سے آپ حضرت عقیل بن ابو طالب کی نسبت ان میں زیادہ مقبول تھے۔حضرت عقیل حضرت ابو بکر کے بعد قریش کے حسب و نسب اور ان کے آبا و اجداد اور ان کی اچھائیوں اور برائیوں کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والے تھے مگر حضرت عقیل قریش کو ناپسندیدہ تھے کیونکہ وہ قریش کی برائیاں بھی گنوا دیتے تھے۔حضرت عقیل مسجد نبوی میں نسب ناموں، عرب کے حالات و واقعات کا علم حاصل کرنے کے لیے حضرت ابو بکر کے پاس بیٹھا کرتے تھے۔اہل مکہ کے نزدیک حضرت ابو بکر ان کے بہترین لوگوں میں سے تھے چنانچہ جب بھی انہیں کوئی مشکل پیش آتی وہ آپ سے مدد طلب کر لیا کرتے تھے۔44 خون بہا اور دیتوں کا عہدہ ان کے سپر د تھا مکہ میں بسنے والے تمام قبائل کو کعبہ کے مناصب کے لحاظ سے کوئی نہ کوئی منصب حاصل ہو تا تھا اور کوئی فریضہ تفویض ہو تا تھا۔بنو عبد مناف کے سپر د حاجیوں کے لیے پانی کی فراہمی اور انہیں ضروری آسائشیں فراہم کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔بنو عبد الدار کے ذمہ جنگ کے وقت علمبر داری، کعبہ کی دربانی