اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 12 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 12

اصحاب بدر جلد 2 12 حضرت ابو بکر صدیق 45 اور دارالندوہ کا انتظام تھا۔لشکروں کی سپہ سالاری حضرت خالد بن ولید کے قبیلہ بنو مخزوم کے حصہ میں آئی تھی۔خون بہا اور دیتیں اکٹھا کرنا حضرت ابو بکر کے قبیلہ بنوتیم بن مرہ کا کام تھا۔جب حضرت ابو بکر صدیق جوان ہوئے تو یہ خدمت ان کے سپر د کر دی گئی۔5 جب حضرت ابو بکر کسی چیز کی دیت کا فیصلہ کرتے تو قریش آپ کی تصدیق کرتے اور آپ کی دیت کا لحاظ کرتے اور اگر آپ کے علاوہ کوئی اور دیت کا فیصلہ کرتا تو قریش اس کو چھوڑ دیتے اور اس کی تصدیق نہ کرتے تھے۔46 حلف الفضول میں شمولیت حلف الفضول میں حضرت ابو بکر کی بھی شمولیت تھی۔یہ غریبوں کی مدد کا، مظلوموں کی مدد کا وہ خاص معاہدہ تھا جس کا ” قدیم زمانہ میں عرب کے بعض شریف دل اشخاص کو یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ باہم مل کر عہد کیا جاوے کہ ہم ہمیشہ حق دار کو اس کا حق حاصل کرنے میں مدد دیں گے اور ظالم کو ظلم سے روکیں گے اور عربی میں چونکہ حق کو فضل بھی کہتے ہیں جس کی جمع فضول ہے اس لئے اس معاہدہ کا نام حلف الفُضُول رکھا گیا۔بعض روایتوں کی رو سے چونکہ اس تجویز کے محرک ایسے شخص تھے جن کے ناموں میں فضل کا لفظ آتا تھا اس لئے یہ عہد حلف الفضول کے نام سے مشہور ہو گیا۔بہر حال حرب فجار کے بعد اور غالباً اسی جنگ سے متاثر ہو کر آنحضرت صلی علیہم کے چاز بیر بن عبد المطلب کے دل میں یہ تحریک پیدا ہوئی کہ اس حلف کو پھر تازہ کیا جائے۔چنانچہ اس کی تحریک پر بعض قبائل قریش کے نمائندگان عبد اللہ بن جدعان کے مکان پر جمع ہوئے جہاں عبد اللہ بن جدعان کی طرف سے ایک دعوت کا انتظام تھا اور پھر سب نے اتفاق کر کے باہم قسم کھائی کہ ہم ہمیشہ ظلم کو روکیں گے اور مظلوم کی مدد کریں گے۔اس عہد میں حصہ لینے والوں میں بنو ہاشم، بنو مطلب بنو اسد، بنوزہرہ اور بنو تیم شامل تھے۔آنحضرت صلی الہیہ کم بھی اس موقعہ پر موجود تھے اور شریک معاہدہ تھے۔چنانچہ آپ ایک دفعہ نبوت کے زمانہ میں فرماتے تھے کہ میں عبد اللہ بن مجدعان کے مکان پر ایک ایسی قسم میں شریک ہوا تھا کہ اگر آج اسلام کے زمانہ میں بھی مجھے کوئی اس کی طرف بلائے تو میں اس پر لبیک کہوں گا۔47 ایک مصنف حضرت ابو بکر کی بھی حلف الفضول میں شمولیت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس انجمن میں آنحضور علی ملی کی بھی شامل ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ حضرت ابو بکر صدیق بھی شامل ہوئے تھے۔48 آنحضرت صلی الم سے دوستی کا تعلق بعثت سے قبل رسول کریم صلی ال نیم سے آپ کا تعلق اور دوستی کا حال یوں بیان ہوا ہے۔ابن اسحاق اور ان کے علاوہ بعض اور لوگوں نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابو بکر بعثت سے قبل رسول اللہ صلی ال نیم کے ساتھی تھے۔وہ آپ صلی علی کرم کے صدق اور امانت اور آپ کی پاک فطرت اور عمدہ اخلاق سے اچھی طرح