اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 206 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 206

حاب بدر جلد 2 206 حضرت ابو بکر صدیق مالک بن نویرہ کے قتل کے متعلق ایک اور مصنف لکھتے ہیں کہ مالک بن نویرہ کے سلسلہ کی روایات میں بہت زیادہ اختلاف ہے۔ان کے بارے میں جو روایات ہیں ان میں بہت اختلاف ہے کہ آیا وہ مظلوم قتل ہوا یا یہ کہ وہ قتل کا مستحق تھا۔مالک بن نویرہ کو جس چیز نے ہلاک کیا وہ اس کا کبر اور غرور اور تمرد تھا۔جاہلیت اس کے اندر باقی رہی ورنہ رسول اللہ صلی اللی کم کے بعد خلیفہ رسول کی اطاعت اور بیت المال کے حق زکوۃ کی ادائیگی میں ٹال مٹول نہ کرتا۔یہ لکھتے ہیں کہ میرے تصور کے مطابق یہ شخص سرداری اور قیادت کا شوقین تھا اور ساتھ ہی ساتھ بنو تمیم کے سرداروں میں سے اپنے ان بعض اقارب سے اس کو خلش تھی جنہوں نے اسلامی خلافت کی اطاعت قبول کر لی تھی اور حکومت کے سلسلہ میں اپنے واجبات کو ادا کر دیا تھا۔جو لوگ خلافت کی اطاعت میں آگئے تھے اور زکوۃ وغیرہ ادا کر رہے تھے ان سے اس کو خلش تھی۔اس کے اقوال و افعال دونوں ہی اس تصور کی تائید کرتے ہیں۔اس کا مرتد ہونا اور سجاخ کا ساتھ دینا، زکوۃ کے اونٹوں کو اپنے لوگوں میں تقسیم کر دینا، زکوۃ کا ابو بکر کو دینے سے روکنا، تمرے ڈو عصیان کے سلسلہ میں اپنے قرابت دار مسلمانوں کی نصیحتوں کو نہ سننا یہ سب اس پر فرد جرم ثابت کرتے ہیں اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ شخص اسلام کی بہ نسبت کفر سے زیادہ قریب تھا۔ایک طرف مسلمان کہلا تا تھا، کہلانا چاہتا تھا اور دوسری طرف کفر کے قریب تھا اور اگر مالک بن نویرہ کے خلاف کوئی حجت و دلیل نہ ہو تو اس کا صرف زکوۃ روک لینا ہی اس پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے کافی ہے۔متقدمین کے یہاں یہ ایک ثابت شدہ حقیت ہے کہ اس نے زکوۃ کی ادائیگی سے انکار کیا تھا۔ابن عبد السلام کی كتاب طبقات محولُ الشُّعراء میں ہے کہ یہ متفق علیہ بات ہے کہ خالد نے مالک سے گفتگو کی اور اس کو اس کے موقف سے پھیرنے کی کوشش کی لیکن مالک نے نماز کو تسلیم کیا۔اس نے کہا نماز تو پڑھ لوں گا اور زکوۃ سے اعراض کیا اور شرح مسلم میں امام نووی مرتدین کے سلسلہ میں فرماتے ہیں کہ انہی کے ضمن میں وہ حضرات بھی تھے جو ز کوۃ کو تسلیم کرتے تھے اور اس کی ادائیگی سے رکے نہیں تھے لیکن ان کے سرداروں نے انہیں اس سے روک دیا۔بعض لوگ چاہتے تھے کہ جن پر نمازوں کے ساتھ زکوۃ بھی فرض ہے وہ زکوۃ ادا کریں لیکن سرداروں نے اسے روک دیا اور ان کے ہاتھ پکڑ رکھے تھے جیسا کہ بنویز بوع۔انہوں نے اپنی زکوۃ اکٹھی کی اور اس کو ابو بکر کے پاس بھیجنا چاہتے تھے لیکن مالک بن نویرہ نے انہیں روک دیا اور ان کی زکوۃ کو لوگوں میں تقسیم کر دیا۔حضرت ابو بکر نے مالک بن نویرہ کے معاملے میں پوری تحقیق کی اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ خالد بن ولید مالک بن نویرہ کے قتل کے اتہام میں بری ہیں۔ابو بکر اس سلسلہ میں حقائق امور سے دوسروں کی بہ نسبت زیادہ واقف تھے اور گہری نگاہ رکھتے تھے کیونکہ آپ خلیفہ تھے اور تمام خبریں آپ کو پہنچتی تھیں اور آپ کا ایمان بھی سب پر بھاری تھا۔خالد کے ساتھ تعامل میں آپ رسول اللہ صلی ایم کی سنت کی پیروی کر رہے تھے کیونکہ رسول اللہ صلی الیم نے خالد کو جو ذمہ داری سونپی اس سے انہیں کبھی معزول نہیں کیا اور اگر چہ ان سے بعض ایسی چیز میں صادر ہوئیں جن سے آپ مطمئن نہ تھے۔آپ ان کے عذر کو قبول فرماتے اور لوگوں سے فرماتے یعنی آنحضرت صلی علیم خالد کے عذر کو قبول فرماتے اور لوگوں سے فرماتے خالد کو تکلیف مت پہنچاؤ۔وہ اللہ کی الله