اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 205 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 205

اصحاب بدر جلد 2 205 حضرت ابو بکر صدیق کارروائی کی ضرورت نہیں تھی اس لیے حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا کہ اس قصے کو اب بند کر و۔اس بارے میں مالک بن نویرہ کا جو قصہ ہے، اس کے قتل کی بابت جو الزام ہے اس کا جواب دیتے ہوئے حضرت شاہ عبد العزیز دہلوی لکھتے ہیں۔تحفہ اثنا عشریہ ان کی کتاب ہے اس میں لکھتے ہیں کہ : مة الله سة دراصل جو واقعہ پیش آیا اس کی تعبیر ان لوگوں نے صحیح بیان نہیں کی اور جب تک صحیح حالات نہ معلوم ہوں اس وقت تک اعتراض کی بے وقعتی ظاہر ہے۔سیرت و تاریخ کی معتبر کتابوں میں اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ مدعی نبوت طلیحہ بن خویلد اسدی کی مہم سے حضرت خالد جب فارغ ہو کر نواح بطاخ کی طرف متوجہ ہوئے تو اطراف اور جوانب کی طرف فوجی دستے روانہ کیے اور حضور نبی کریم صلی علیکم کے ارشاد اور طریقے کے مطابق ان کو ہدایت کی کہ جس قوم قبیلہ اور گروہ پر چڑھائی کر دوہاں سے اگر تمہیں اذان سنائی دے تو وہاں قتل و غارت گری سے باز رہو۔اگر اذان سنائی نہ دے تو اسے دار الحرب قرار دے کر پوری فوجی کارروائی کرو۔اتفاقاً اس دستہ میں جناب ابو قتادہ انصاری بھی تھے جو مالک بن نویرہ کو پکڑ کر حضرت خالد کے پاس لائے جس کو نبی کریم صلی یک کم کی جانب سے بطان کی سرداری ملی ہوئی تھی اور اس کے گردو نواح کے صدقات کی وصولی بھی اسی کے سپرد تھی۔جناب ابو قتادہ نے اذان سننے کی گواہی دی مگر اسی دستے کی ایک جماعت نے کہا کہ ہم نے اذان کی آواز نہیں سنی مگر اس کے پیشتر گردو نواح کے معتبرین کے ذریعہ یہ بات حتمی اور ثبوتی طور پر معلوم ہو چکی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ نیلم کے وصال کی خبر سن کر مالک بن نویرہ کے اہل خانہ نے خوب جشن منایا تھا۔عورتوں نے ہاتھوں میں مہندی رچائی تھی، ڈھول بجائے تھے اور خوب خوب فرحت و شادمانی کا اظہار کیا تھا اور مسلمانوں کی اس مصیبت پر خوش ہوئے تھے۔پھر مزید ایک بات یہ ہوئی کہ مالک بن نویرہ سے سوال و جواب کے دوران اس کے منہ سے حضور اکرم صلی علیہم کے لیے ایسے الفاظ نکلے جس کے کفار اور مرتدین اپنی گفتگو میں عادی تھے اور استعمال کرتے تھے۔یعنی قَالَ رَجُلُكُمْ أَوْ صَاحِبُكُم کہ تمہارے آدمی یا تمہارے ساتھی نے ایسا کہا۔علاوہ ازیں یہ بات بھی منکشف ہو چکی تھی کہ حضور اکرم صلی نیلم کے وصال کی خبر سن کر مالک بن نویرہ نے وصول شدہ صدقات بھی اپنی قوم کو یہ کہہ کر واپس کر دیے تھے کہ اچھا ہوا اس شخص کی موت سے تم نے مصیبت سے چھٹکارا پا لیا۔ان حالات اور اپنے سامنے اس کی گفتگو کے انداز سے حضرت خالد کو اس کے ارتداد کا یقین ہو گیا اور آپ نے اس کے قتل کا حکم دے دیا اور جب مدینہ میں اس واقعہ کی اطلاع پہنچی اور پھر جناب ابو قتادہ بھی آپ سے ناراض ہو کر دار الخلافہ پہنچے اور قصور وار حضرت خالد کو ہی ٹھہرایا۔تو ابتداء حضرت عمر فاروق کا یہی خیال تھا کہ خون ناحق ہوا ہے اور قصاص واجب ہے مگر حضرت ابو بکر نے حضرت خالد کو طلب فرما کر تفتیش حال کی۔ان سے پورا واقعہ پوچھا اور حالات و واقعات کا سارا راز آپ پر منکشف ہوا تو آپ نے ان کو بے قصور قرار دے کر ان سے کچھ تعارض نہ کیا اور ان کو اسی سابقہ عہدے پر بحال رکھا۔508