اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 165
حاب بدر جلد 2 165 حضرت ابو بکر صدیق الله مسئلہ کے اختلاف کی وجہ سے عرب کے ہزاروں لوگ مرتد ہو گئے اور مسیلمہ مدینہ پر حملہ آور ہوا تو حضرت ابو بکر ہو جو اس وقت خلیفہ تھے اطلاع پہنچی کہ مسیلمہ ایک لاکھ کی فوج لیکر حملہ آور ہو رہا ہے۔اس وقت کچھ لوگوں نے حضرت ابو بکر کو یہ مشورہ دیا کہ چونکہ اس وقت ہم ایک نازک دور میں سے گزر رہے ہیں اور زکوۃ کے مسئلہ پر اختلاف کی وجہ سے لوگ ارتداد اختیار کرتے جارہے ہیں اور ادھر مسیلمہ ایک بہت بھاری فوج کے ساتھ حملہ آور ہوا ہے اس لئے ان حالات کے پیش نظر قرین مصلحت یہی ہے کہ آپ زکوۃ کا مطالبہ سر دست نہ کریں اور ان لوگوں سے صلح کر لیں۔حضرت ابو بکر نے ان خدشات کی ذرا بھی پرواہ نہیں کی اور ” پرواہ نہ کرتے ہوئے ان مشورہ دینے والوں سے کہا کیا تم مجھے وہ بات منوانا چاہتے ہو جو خدا تعالیٰ اور اس کے رسول صلی تعلیم کے احکام کے صریح خلاف ہے ؟ زکوۃ کا حکم خدا تعالیٰ اور اس کے رسول صلی علیم کی طرف سے ہے۔اس لئے میرا فرض ہے کہ میں خدا اور اس کے رسول صلی علیکم کے احکام کے تحفظ کے لئے ہر ممکن کوشش کروں۔صحابہ نے پھر کہا کہ حالات کا تقاضا یہی ہے کہ صلح کر لی جائے۔حضرت ابو بکر نے فرمایا اگر آپ نہیں لڑنا چاہتے اور دشمن کے مقابلہ کی تاب نہیں لا سکتے تو آپ لوگ جائیں اور اپنے گھروں میں جاکر بیٹھیں۔خدا کی قسم! میں دھیمین سے اس وقت تک اکیلا لڑوں گا جب تک وہ اونٹ کے گھٹنے باندھنے کی رسی بھی اگر زکوۃ میں دینی تھی اسے ادا نہیں کر دیتے اور جب تک میں ان لوگوں کو زکوۃ دینے کا قائل نہ کر لوں گا ان سے کبھی صلح نہ کروں گا۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں ”پس حقیقی ایمان کی یہی علامت ہوا کرتی ہے۔اور پس یہی ایمان ہے۔اگر ہم میں ہو گا تو ہم دنیا میں اسلام کا حقیقی پیغام پہنچا سکیں گے اور کامیاب ان شاء اللہ ہوں گے۔پھر ایک جگہ حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ ” آپ کی وفات کے بعد عرب کے قبائل نے بغاوت کر دی اور انہوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا۔وہ بھی یہی دلیل دیتے تھے کہ خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی للی کم کے سوا کسی اور کو زکوۃ لینے کا اختیار ہی نہیں دیا۔چنانچہ وہ فرماتا ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ تم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ ” اے محمد صلی اللہ کیا تو ان کے اموال کا کچھ حصہ بطور زکوۃ لے۔یہ کہیں ذکر نہیں کہ کسی اور کو بھی رسول کریم صلی علیکم کے بعد زکوۃ لینے کا اختیار ہے مگر مسلمانوں نے ان کی اس دلیل کو تسلیم نہ کیا حالانکہ وہاں خصوصیت کے ساتھ رسول کریم صلی اللی کم کو ہی مخاطب کیا گیا ہے۔بہر حال جو لوگ اس وقت مرتد ہوئے ان کی بڑی دلیل یہی تھی کہ زکوۃ لینے کا صرف محمد رسول اللہ صلی علی یم کو اختیار حاصل تھا کسی اور کو نہیں۔اور اس کی وجہ یہی دھوکا تھا کہ نظام سے تعلق رکھنے والے احکام ہمیشہ کے لئے قابل عمل نہیں بلکہ رسول کریم صلی ال یکم کے ساتھ وہ احکام مخصوص تھے۔مگر آپ فرماتے ہیں کہ ” یہ خیال بالکل غلط ہے اور اصل حقیقت یہی ہے کہ جس طرح نماز روزہ کے احکام رسول کریم صلی للی نام تک ختم نہیں ہو گئے اسی طرح قومی یا ملکی نظام سے تعلق رکھنے والے احکام بھی آپ کی وفات کے ساتھ ختم نہیں ہو گئے اور نماز باجماعت کی طرح جو ایک اجتماعی عبادت ہے ان احکام کے متعلق بھی ضروری ہے کہ ہمیشہ مسلمانوں میں آپ کے نائبین کے ذریعہ ان پر عمل ہو تار ہے۔434 433<< الله