اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 164 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 164

اصحاب بدر جلد 2 164 حضرت ابو بکر صدیق ہم آہنگ ہو کر اپنے معترض کو میں کہتا ہوں کہ اب میں مخاطب ہوں۔حضرت مصلح موعوددؓ فرماتے ہیں کہ اگر اُس وقت یہ جواب سچا تھا اور ضرور سچا تھا جو حضرت ابو بکر نے جواب دیا تو یہ بھی درست ہے جو میں کہتا ہوں کہ آج میں مخاطب ہوں اور یہی اصول ہمیشہ خلافت کے ساتھ رہے گا۔یہ یاد رکھنے والی بات ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں اگر تمہارا اعتراض درست ہو تو اس پر قرآن مجید سے بہت سے احکام تم کو نکال دینے پڑیں گے اور یہ کھلی کھلی ضلالت ہے۔431 یہ باتیں آپ اس وقت بیان فرما رہے تھے جب ایک تقریر آپ نے منصب خلافت کے ضمن میں کی۔قومی ترقی کا راز جسے ہمیشہ یادر کھنا چاہیے پھر ایک اور موقع پر حضرت مصلح موعودؓ نے بیان فرمایا کہ ” جب آپ آنحضرت صلی ال "فوت ہوئے تو بہت سے نادان مسلمان مرتد ہو گئے۔تاریخوں میں آتا ہے کہ صرف تین جگہیں ایسی رہ گئی تھیں جہاں مسجدوں میں باجماعت نماز ہوتی تھی۔اسی طرح ملک کے اکثر لوگوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا تھا اور وہ کہتے تھے کہ رسول کریم صلی علیم کے بعد کسی کا کیا حق ہے کہ وہ ہم سے زکوۃ مانگے۔جب یہ رو سارے عرب میں پھیل گئی اور حضرت ابو بکر نے ایسے لوگوں پر سختی کرنی چاہی تو حضرت عمر اور بعض اور صحابہ حضرت ابو بکڑ کے پاس پہنچے اور جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے ”انہوں نے عرض کیا کہ یہ وقت سخت نازک ہے۔اس وقت کی ذراسی غفلت بہت بڑے نقصان کا موجب ہو سکتی ہے۔اس لئے ہماری تجویز یہ ہے کہ اتنے بڑے دشمن کا مقابلہ نہ کیا جائے اور جو ز کوۃ نہیں دینا چاہتے ان کے ساتھ نرمی کا سلوک کیا جائے۔حضرت ابو بکر نے جواب دیا کہ تم میں سے جو شخص ڈر تاہو وہ جہاں چاہے جائے۔خدا کی قسم! اگر تم میں سے ایک شخص بھی میرا ساتھ نہ دے گا تو بھی میں اکیلا دشمن کا مقابلہ کروں گا اور اگر دشمن مدینہ کے اندر گھس آئے اور میرے عزیزوں، رشتہ داروں اور دوستوں کو قتل کر دے اور عورتوں کی لاشیں مدینہ کی گلیوں میں کتے گھسیٹتے پھریں تب بھی میں ان سے جنگ کروں گا اور اس وقت تک نہیں رکوں گا جب تک یہ لوگ اونٹ کا گھٹنہ باندھنے کی وہ رسی بھی جو پہلے زکوۃ میں دیا کرتے تھے نہ دینے لگ جائیں۔چنانچہ انہوں نے “ یعنی حضرت ابو بکر نے ”دشمن کی شرارت کا دلیری کے ساتھ مقابلہ کیا اور آخر کامیاب ہوئے صرف اس لئے کہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ کام میں نے ہی کرنا ہے۔اسی لئے انہوں نے مشورہ دینے والے صحابہ کو کہہ دیا کہ تم میں سے کوئی شخص میر اساتھ دے یا نہ دے میں اکیلا دشمن کا مقابلہ کروں گا یہاں تک کہ میری جان خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان ہو جائے۔پس جس قوم کے اندر یہ عزم پیدا ہو جائے۔“ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ : ” جس قوم کے اندر یہ عزم پیدا ہو جائے وہ ہر میدان میں جیت جاتی ہے اور دشمن کبھی اس کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا۔4324 اور یہی قومی ترقی کا راز ہے جسے ہمیشہ یادرکھنا چاہیے۔پھر ایک اور موقع پر حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ: "رسول کریم صلی ایام کے بعد جب زکوۃ کے