اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 166 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 166

اصحاب بدر جلد 2 166 حضرت ابو بکر صدیق پھر ایک موقع پر حضرت مصلح موعودؓ نے یہ بھی فرمایا کہ جب رسول کریم صلی یم نے وفات پائی اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو اس وقت سارا عرب مرتد ہو گیا۔سوائے مکہ اور مدینہ کے اور ایک چھوٹے سے قصبہ کے تمام لوگوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی الم سے فرمایا تھا کہ خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً ان کے مالوں سے صدقہ لے۔کسی اور کو یہ اختیار نہیں کہ ہم سے زکوۃ وصول کرے۔غرض سارا عرب مرتد ہو گیا اور وہ لڑائی کے لیے چل پڑا۔صرف مرتد نہیں ہو گیا بلکہ لڑائی کے لیے چل پڑا۔رسول کریم صلی علی کم کے زمانہ میں گو اسلام کمزور تھا مگر قبائل عرب متفرق طور پر حملہ کرتے تھے۔کبھی ایک گروہ نے حملہ کر دیا اور کبھی دوسرے نے۔جب غزوہ احزاب کے موقع پر کفار کے لشکر نے اجتماعی رنگ میں مسلمانوں پر حملہ کیا تو اس وقت تک اسلام بہت کچھ طاقت پکڑ چکا تھا گو ابھی اتنی زیادہ طاقت حاصل نہیں ہوئی تھی کہ انہیں آئندہ کے لیے کسی حملے کا ڈر ہی نہ رہتا۔اس کے بعد جب رسول کریم صلی علیہ یکم مکہ فتح کرنے کے لیے گئے تو اس وقت عرب کے بعض قبائل بھی آپ کی مدد کے لیے کھڑے ہو گئے۔اس طرح خدا نے تدریجی طور پر دشمنوں میں جوش پیدا کیا تا کہ وہ اتنا زور نہ پکڑ لیں کہ سب ملک پر چھا جائیں لیکن حضرت ابو بکڑ کے زمانہ میں یکدم تمام عرب مرتد ہو گیا۔صرف مکہ اور مدینہ اور ایک چھوٹا سا قصبہ رہ گئے۔باقی تمام مقامات کے لوگوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا اور وہ لشکر لے کر مقابلہ کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔صرف زکوۃ کا انکار نہیں کیا بلکہ لشکر لے کر مقابلے کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔بعض جگہ تو ان کے پاس ایک ایک لاکھ کا بھی لشکر تھا۔مگر ادھر صرف دس ہزار کا ایک لشکر تھا اور وہ بھی شام کو جار ہا تھا اور یہ وہ لشکر تھا جسے اپنی وفات کے قریب رسول کریم صلی علیم نے رومی علاقہ پر حملہ کرنے کے لیے تیار کیا تھا اور اسامہ کو اس کا افسر مقرر کیا تھا۔باقی لوگ جو رہ گئے تھے وہ یا تو کمزور اور بڑھے تھے اور یا پھر گنتی کے چند نوجوان تھے۔یہ حالات دیکھ کر صحابہ نے سوچا کہ اگر ایسی بغاوت کے وقت اسامہ کا لشکر بھی روانہ ہو گیا تو مدینہ کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں ہو سکے گا۔چنانچہ اکابر صحابہ کا یہ وفد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔پہلے بھی بیان ہو چکا ہے اور عرض کیا کہ کچھ عرصہ کے لیے اس لشکر کو روک لیا جائے۔جب بغاوت فرو ہو جائے تو پھر بے شک اسے بھیج دیا جائے مگر اس وقت اس کا بھیجنا خطرہ سے خالی نہیں۔حضرت ابو بکڑ نے نہایت غصہ کی حالت میں فرمایا کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ رسول کریم صلی المی کم کی وفات کے بعد ابو قحافہ کا بیٹا سب سے پہلا کام یہ کرے کہ جس لشکر کو روانہ کرنے کا رسول کریم صلی علیم نے حکم دیا تھا اسے روک لے۔بہر حال آپ نے کہا یہ تو روانہ ہو گا اور میں اس لشکر کو ضرور روانہ کروں گا جس کو روانہ کرنے کا رسول کریم صلی ا تم نے ارشاد فرمایا ہے۔اگر تم دشمن کی فوجوں سے ڈرتے ہو تو بے شک میر اساتھ چھوڑ دو۔میں اکیلا تمام دشمن کا مقابلہ کروں گا۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ یہ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا کی صداقت کا بڑا