اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 113 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 113

الله سة 113 رض حضرت ابو بکر صدیق حاب بدر جلد 2 تک کہ میں بے بس ہو گیا۔پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا۔وہ ڈھیلا پڑ گیا اور میں نے اس کو دھکا دیا۔پھر میں نے اس کو مار ڈالا۔ادھر یہ حال ہوا کہ مسلمان شکست کھا کر بھاگ گئے۔میں بھی ان کے ساتھ بھاگ گیا۔کہتے ہیں کہ پھر لوگ لوٹ کر رسول اللہ صلی علیم کے پاس جمع ہونے شروع ہو گئے تو رسول اللہ صلی علیکم نے فرمایا جو شخص کسی مقتول کے متعلق یہ ثبوت پیش کر دے کہ اس نے اس کو قتل کیا ہے تو اس مقتول کا سامان اس کے قاتل کا ہو گا۔میں اٹھا تا کہ اپنے مقتول سے متعلق کوئی شہادت ڈھونڈوں مگر کسی کو نہ دیکھا جو میرے لیے گواہی دے اور میں بیٹھ گیا۔پھر مجھے خیال آیا اور میں نے اس مقتول کا واقعہ رسول اللہ صلی علیم سے ذکر کیا۔آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک شخص نے کہا کہ اس مقتول کے ہتھیار جس کا یہ ذکر کرتے ہیں میرے پاس ہیں۔اس شخص نے یعنی جس کے پاس یہ ہتھیار تھے کہا کہ ان ہتھیاروں کی بجائے آپ صلی للی کم اس کو کچھ اور دے کر راضی کر لیں۔یعنی کہتے ہیں کہ جو سامان میرے پاس ہے وہ میرے پاس ہی رہنے دیں اور انہیں کچھ اور دے دیں۔حضرت ابو بکر وہاں بیٹھے تھے۔حضرت ابو بکر نے کہا ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا۔آپ صلی اللہ تم قریش کے ایک بزدل کو تو سامان دلا دیں اور اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو چھوڑ دیں جو اللہ اور اس کے رسول صلی علیہ یکم کی طرف سے لڑ رہا ہے۔حضرت ابو قتادہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی عید کم کھڑے ہوئے اور آپ نے وہ سامان مجھے دلا دیا۔میں نے اس سے کھجوروں کا ایک باغ خرید لیا اور یہ پہلا مال تھا جو میں نے اسلام میں بطور جائیداد بنایا۔حضرت مصلح موعود بیان کرتے ہیں کہ دیکھو تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ جنگ حنین کے موقع پر جب مکہ کے کافر لشکر اسلام میں یہ کہتے ہوئے شامل ہو گئے کہ آج ہم اپنی بہادری کے جوہر دکھائیں گے اور پھر بنو ثقیف کے حملہ کی تاب نہ لا کر میدان جنگ سے بھاگے تو ایک وقت ایسا آیا کہ رسول کریم صلی علیم کے گرد صرف بارہ صحابی رہ گئے۔اسلامی لشکر جو دس ہزار کی تعداد میں تھا اس میں بھا گڑ بچ گئی۔کفار کا لشکر جو تین ہزار تیر اندازوں پر مشتمل تھا آپ کے دائیں بائیں پہاڑوں پر چڑھا ہوا آپ پر تیر برسا رہا تھا مگر اس وقت بھی آپ پیچھے نہیں ہٹنا چاہتے تھے بلکہ آگے جانا چاہتے تھے۔حضرت ابو بکڑ نے گھبر ا کر آپ کی سواری کی لگام پکڑ لی اور عرض کیا کہ یارسول اللہ ! میری جان آپ پر قربان ہو یہ آگے بڑھنے کا وقت نہیں ہے۔ابھی لشکر اسلام جمع ہو جائے گا تو پھر ہم آگے بڑھیں گے مگر آپ صلی ا یکم نے بڑے جوش سے فرمایا کہ میری سواری کی باگ چھوڑ دو اور پھر ایڑ لگاتے ہوئے آگے بڑھے اور یہ کہتے جاتے تھے کہ 304 أنَا النَّبِيُّ لَا كَذِب أنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِب یعنی میں موعود نبی ہوں جس کی حفاظت کا دائمی وعدہ ہے۔جھوٹا نہیں ہوں۔اس لیے تم تین ہزار تیر انداز ہو یا تیس ہزار مجھے تمہاری کوئی پروا نہیں۔اور اے مشرکو! میری اس دلیری کو دیکھ کر کہیں مجھے خدا نہ سمجھ لینا میں ایک انسان ہوں اور تمہارے سر دار عبد المطلب کا بیٹا یعنی پوتا ہوں۔آپ کے چچا حضرت عباس کی آواز بہت اونچی تھی۔آپ نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا عباس !