اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 112
صحاب بدر جلد 2 112 حضرت ابو بکر صدیق گھائی ہے۔غزوہ حنین شوال آٹھ ہجری میں فتح مکہ کے بعد ہوا تھا۔بیان ہوا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی علیہ یکم کے ہاتھ پر مکہ فتح کر دیا تو سردارانِ هَوازن اور ثقیف ایک دوسرے سے ملے اور یہ لوگ ڈر رہے تھے کہ آنحضرت صلی علیہ یکم ان سے بھی لڑائی کریں گے۔299 مالک بن عوف نضیری نے قبائل عرب کو جمع کیا۔چنانچہ اس کے پاس ہوازن کے ساتھ بنو ثقیف اور بنو نضر اور بنو جشم اور سعد بن بکر اور چند لوگ بنو هلال میں سے جمع ہو گئے۔300 سة یہ سب لوگ آوطاس کے مقام پر جمع ہو گئے۔اوطاس، محنین کے قریب ایک وادی ہے۔مالک بن عوف نے اپنے جاسوس روانہ کیے تاکہ یہ لوگ رسول اللہ صلی لیلی کیم کے متعلق خبر لائیں۔جب رسول اللہ صلی ایلیم نے ان کے اکٹھے ہونے کی خبر سنی تو آپ نے اپنے اصحاب میں سے ایک شخص عبد اللہ بن ابو حند د اسلمی کو ان کی طرف خبریں معلوم کرنے کے لیے بھیجا تا کہ ان کی بھی خبر لائیں۔اس کے بعد آنحضرت صلی علی کرم نے توازن کے مقابلے کے لیے کوچ کا فیصلہ کیا اور جنگ کے لیے صفوان بن امیہ اور اپنے چچازاد بھائی کو فل بن حارث سے ہتھیار ادھار لیے۔اس طرح رسول کریم علی الی یکم بارہ ہزار کے لشکر کے ساتھ بنو ہوازن سے مقابلہ کے لیے نکلے اور علی الصبح حسین کے مقام پر پہنچے اور وادی میں داخل ہو گئے۔مشرکین کا لشکر اس وادی کی گھاٹیوں میں پہلے سے چھپا ہو ا تھا۔انہوں نے مسلمانوں پر اچانک حملہ کر دیا اور اتنی شدت سے تیر مارے کہ مسلمان پلٹ کر بھاگے اور بکھر گئے جس کی وجہ سے آنحضرت صلی علیم کے پاس صرف چند صحابہ رہ گئے جن میں حضرت ابو بکر بھی شامل تھے۔301 ابو اسحاق سے روایت ہے کہ ایک شخص براء کے پاس آیا اور کہا تم لوگ حُنین کے دن پیٹھ دیکھا گئے تھے۔انہوں نے کہا میں نبی صلی الی یکم کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے پیٹھ نہیں دکھائی تھی لیکن جلد باز اور بغیر ہتھیاروں کے لوگ ہوازن قبیلہ کی طرف گئے اور وہ تیر انداز قوم تھی۔انہوں نے 303 ایسے تیروں کی بارش کی گویا ٹڈی دل ہے۔جس کے نتیجہ میں وہ اپنی جگہیں چھوڑ گئے۔302 ایسے حالات میں مہاجرین میں سے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رسول اللہ صلی ایم کے ساتھ ثابت قدم رہے اور آپ صلی المیہ یکم کے اہل بیت میں سے حضرت علی، حضرت عباس بن عبد المطلب اور آنحضور صلی علیم کے چازاد ابوسفیان بن حارث اور ان کا بیٹا، حضرت فضل بن عباس اور ربیعہ بن حارث، اسامہ بن زید کا ذکر ملتا ہے کہ یہ ساتھ تھے۔حضرت ابوقتادہ بیان کرتے ہیں کہ جب حُنین کا وقت تھا تو میں نے مسلمانوں میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک مشرک شخص سے لڑ رہا ہے اور ایک اور مشرک ہے جو دھوکا دے کر چپکے سے اس کے پیچھے سے اس پر حملہ کرنا چاہتا ہے کہ اس کو قتل کر دے۔تو میں جلدی سے اس کی طرف بڑھا جو اس طرح دھو کے سے ایک مسلمان سے جھپٹنا چاہتا تھا۔اس نے مجھے مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا اور میں نے اس کے ہاتھ پر وار کیا اور ہاتھ کو کاٹ دیا۔پھر اس نے مجھے پکڑ لیا اور اس نے مجھے زور سے بھینچا یہاں