اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 114
اصحاب بدر جلد 2 114 حضرت ابو بکر صدیق آگے آؤ اور آواز دو اور بلند آواز سے پکارو کہ اے سورہ بقرہ کے صحابیو یعنی جنہوں نے سورت بقرہ یاد کی ہوئی ہے !اے حدیبیہ کے دن درخت کے نیچے بیعت کرنے والو!! خدا کا رسول تمہیں بلاتا ہے۔ایک صحابی کہتے ہیں کہ مکہ کے تازہ کو مسلموں کی بزدلی کی وجہ سے جب اسلامی لشکر کا اگلا حصہ پیچھے کی طرف بھاگا تو ہماری سواریاں بھی دوڑ پڑیں اور جتنا ہم روکتے تھے اتنا ہی وہ پیچھے کی طرف بھاگتی تھیں۔یہاں تک کہ عباس کی آواز میدان میں گونجنے لگی کہ اے سورہ بقرہ کے صحابیو! اے حدیبیہ کے دن درخت کے نیچے بیعت کرنے والو!! خدا کا رسول تمہیں بلاتا ہے۔کہتے ہیں یہ آواز جب میرے کان میں پڑی تو مجھے یوں معلوم ہوا کہ میں زندہ نہیں بلکہ مردہ ہوں اور اشترافییل کاصور فضا میں گونج رہا ہے۔میں نے اپنے اونٹ کی لگام زور سے کھینچی اور اس کا سر پیٹھ سے لگ گیا لیکن وہ اتنا بد کا ہوا تھا کہ جو نہی میں نے لگام ڈھیلی کی وہ پھر پیچھے کی طرف دوڑا۔اس پر میں نے اور بہت سے ساتھیوں نے تلواریں نکال لیں اور کئی تو اونٹوں پر سے کود گئے اور کئی نے اونٹوں کی گردنیں کاٹ دیں اور رسول کریم صلی الم کی طرف دوڑنا شروع کر دیا اور چند لمحوں میں ہی وہ دس ہزار صحابہ کا لشکر جو بے اختیار مکہ کی طرف بھاگا جارہا تھا آپ کے گرد جمع ہو گیا اور تھوڑی دیر میں پہاڑیوں پر چڑھ کر اس نے دشمن کا تہس نہس کر دیا اور یہ خطر ناک شکست ایک عظیم الشان فتح کی صورت میں بدل گئی۔15 305 غزوة طائف طائف مکہ سے مشرق کی جانب تقریبا نوے کلو میٹر پہ ایک مشہور شہر ہے اور حجاز کا پہاڑی شہر ہے۔یہاں انگور اور دوسرے پھل بکثرت ہوتے تھے۔اس جگہ بنو ثقیف آباد تھے۔306 غزوہ طائف کے بارے میں آتا ہے کہ ہوازن اور ثقیف کے پیشتر شکست خوردہ افراد اپنے سر دار مالک بن عوف نفری کے ساتھ بھاگ کر طائف آئے تھے اور یہیں قلعہ بند ہو گئے تھے۔لہذار سول اللہ صلی الل ولم نے حُنین سے فارغ ہو کر اور جعرانہ میں مالِ غنیمت جمع کروا کر تقسیم فرمایا اور اسی ماہ شوال آٹھ ہجری میں طائف کا قصد فرمایا۔307 جعرانہ مکہ اور طائف کے راستہ پر مکہ کے قریب ایک کنواں کا نام ہے۔مکہ سے اس کا فاصلہ ستائیس کلو میٹر تھا۔308 آنحضرت صلی الم نے طائف کا کتنے روز محاصرہ کیا تھا اس بارے میں متعد دروایات ملتی ہیں۔بعض کہتے ہیں دس سے کچھ زائد راتیں محاصرہ کیا۔بعض کہتے ہیں آپ نے ہیں سے کچھ زائد را تیں محاصرہ کیا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ میں دن محاصرہ کیا۔ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے تیس کے قریب راتیں اہل طائف کا محاصرہ کیا۔19 309 310 ابن ہشام کہتے ہیں کہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سترہ راتیں محاصرہ کیا۔0 صحیح مسلم میں حضرت انس سے روایت ہے کہ ہم نے چالیس راتوں تک ان کا محاصرہ کیا۔311