اصحاب احمد (جلد 9) — Page 74
۷۴ -1 -۲ حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی نے خاکسار مولف کو لکھوایا تھا کہ : نو ماہ کے بعد واپسی پر مجھے عبد العزیز صاحب تو مسلم سے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میرے اس غیوبت کے دوران خواب دیکھا تھا کہ میں یعنی عبد الرحمن ( قادیانی ) آگے آگے اور میرے پیچھے میاں عبدالرحیم صاحب ہیں یعنی حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب قادیانی۔اور یہ خواب سنا کر حضور نے یہ تعبیر بیان فرمائی کہ میاں عبد الرحمن انشاء اللہ واپس آ جائیں گے۔اسی طرح میری اس غیر حاضری میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ میں عبدالرحمن قادیانی قادیان پہنچ گیا ہوں۔مگر میرا لباس سیاہ ہے۔حضور نے تعبیر میں فرمایا کہ انشاء اللہ میاں عبد الرحمن واپس آجائیں گے اور فرمایا کہ سیاہ لباس کی تعبیر انشا اللہ ان کے حق میں خوشکن ہوگی۔والد کی قادیان میں خفیہ آکر بھائی جی کو پکڑ لے جانے میں ناکامی میں اس پیاری بستی میں خوش خوش رہنے لگا۔کئی دن بلکہ اکثر حصہ راتوں کا آپ بیتی سنانے میں گذرا۔پھر حالات معمول پر آ گئے۔اور میرا دل بزرگوں اور احباب کے محبت بھرے سلوک اور تعلقات کے باعث مطمئن تھا۔مگر مجھے والد صاحب کی طبیعت اور خاندانی حالات کے مدنظر خدشہ تھا کہ وہ پہلے سے زیادہ غضب ناک ہو کر میرا تعاقب کریں گے اور ہم سب زیادہ محتاط رہنے لگے۔چند روز انتظار کے بعد گھر میں گھبراہٹ ہوئی اور موضع ظفر وال سے بھی ان کو جوابا معلوم ہو گیا کہ میں وہاں نہیں پہنچا۔ادھر قادیان کے غیر مسلموں نے جو ہمیشہ اسی تاک میں رہتے تھے کہ کاری ضرب لگائیں جس سے سلسلہ احمدیہ پاش پاش ہو جائے۔پہلی بار بھی والد صاحب کی امداد اور حوصلہ افزائی کی تھی۔اب مجھے واپس آیا دیکھ کر ان کے سینوں پر کیونکر سانپ لوٹتے ہوں گے۔انہوں نے والد صاحب کو اطلاع دی اور ان کو غیرت دلائی اور بہت کچھ سخت ست کہا۔والد صاحب جس امر کو پہلے برادری سے چھپاتے تھے اب اسے علی الاعلان سنا دینے پر مجبور ہوئے۔چنانچہ اکابر نے امداد کا وعدہ کیا اور قادیان کے ان خاص لوگوں سے مشورہ لینے اور ان کو امداد کے لئے تیار کرنے کے لئے والد صاحب کو قادیان بھیجا۔قادیان کے ان لوگوں نے امکان بھر امداد کرنے کا وعدہ کیا اور ایسے مشورے دیئے جن سے والد صاحب کا میابی کو یقینی سمجھتے ہوئے خوش وخرم واپس گئے اور میری تعزیر کے واسطے جو کچھ انہوں نے سوچنا شروع کیا ان کا ذکر کبھی گھر میں بے ساختہ ہوا۔تو والدہ صاحبہ مارے مامتا کے تڑپ اٹھیں۔اور ایسے ارادوں سے باز رکھنے کی مقدور بھر کوشش کرتیں لیکن