اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 75 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 75

۷۵ والد صاحب ننگ و ناموس کے خیال سے اپنے لائحہ عمل کو عملی جامہ پہنچانے پر اصرار کرتے۔ایک روز شیخ عبدالعزیز صاحب نو مسلم نے مجھ سے اصرار کیا کہ چلو آج بڑی مسجد میں چل کر قرآن شریف پڑھیں۔میں چونکہ ان کے ساتھ ہی رہتا سہتا تھا۔ان کے تقاضا کو رد نہ کر سکا اور ان کے ساتھ مسجد اقصیٰ کو اپنا قرآن شریف لے کر چلا گیا۔اور محراب کے قریب بیٹھ کر سر سے پگڑی اتاری اور اس پر قرآن شریف رکھ کر اپنی منزل کی جگہ کو تلاش کر ہی رہا تھا کہ اچانک میری نظر باہر صحن کی طرف اٹھی۔کیا دیکھتا ہوں کہ میرے ایک چچا بسا کھا سنگھ یا بساکھی رام سامنے کھڑے جلدی جلدی جوتا اتارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔جن کو دیکھتے ہی میرا ماتھا ٹھنکا کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے میں نے فورا قرآن شریف کو بند کیا۔پگڑی سر پر رکھی اور چچا صاحب کی طرف بڑھا۔اتنے میں وہ بھی جو تا کھول کر صحن میں داخل ہو چکے تھے۔وسط صحن تک بڑھ کر سلام کیا۔انہوں نے چھاتی سے لگا کر پیار کیا اور جب انہوں نے مجھے چھاتی سے جدا کیا۔میں جلد جلد مسجد کے صحن سے باہر ہو گیا۔تا کہ ان سے بچ نکلوں۔انہوں نے بھی جلدی تو بہت کی مگر جوتا پہنے میں لمحہ بھر دیر ہوئی۔میں مسجد اقصیٰ کے دروازے کی طرف لپکا۔جہاں کیا دیکھتا ہوں کہ شیروں کی مانند تین سفید پوش دراز قد مسلمان جوانمرد کو چہ میں کھڑے ہیں ان کو میں نے پہچانا اور سیڑھیوں سے اتر کر ان میں سے ایک کے ساتھ مصافحہ کیا۔مگر میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب میں نے محسوس کیا کہ جس شخص کو میں نے مسلمان سمجھ کر مصافحہ کے لئے ہاتھ دیا تھا اس کی طرف سے مصافحہ کے جواب میں ایک سخت گرفت نمودار ہوئی جس کے ساتھ ہی مجھ پر اس سازش کا انکشاف ہوگیا۔کیونکہ پاس ہی چوک میں ایک یکہ کھڑا دیکھ لیا۔اس پر میں نے اس زور سے جھٹکا مارا کہ اس بھاری بھر کم جوان سورما کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔میرا ہاتھ چھٹ گیا اور میں وہاں سے بے تحاشہ اپنے ڈیرے کی طرف دوڑنے لگا۔شان ایز دی کہ میرے چچا صاحب میرے پیچھے تھے اور تین نوجوانوں نے میرا راستہ یوں روک رکھا تھا کہ ایک چوک کی طرف دوسرا ہمارے ڈیرہ کو آنے والی گلی میں اور تیسر ابالکل میرے سامنے تھا گویا میں چاروں طرف سے ایسا گھرا ہوا تھا کہ بچ نکلنا ناممکن تھا۔مگر قربان جاؤں خدائے بلند و برتر پر کہ اس نے ایسے نازک مرحلہ پر غیب سے میری مدد فرمائی اور دشمن کے نرغہ سے خارق عادت رنگ میں مجھے رہائی بخشی ور نہ ان کے ارادے ظاہر تھے۔یکہ تیار کھڑا تھا۔پکڑنے اور اٹھا کر یکہ سے باندھ دینے کے لئے کافی سے زیادہ انتظام تھا۔بازار پر دشمن کا قبضہ تھا اور حالات و اسباب کے لحاظ سے حقیقتا دشمن بالکل مکمل ساز وسامان سے آراستہ اور میں کمزور، بالکل یکہ و تنہا ، بے یار و مددگار تھا حتی کہ میری فریاد تک میرے