اصحاب احمد (جلد 9) — Page 24
۲۴ خود ہی آپ سے پندرہ روزہ عہد کرایا تھا ویسے ہی اس پاک ذات نے اس کے ایفاء کے لئے بالکل عجیب در عجیب اور خاص الخاص سامان بھی میسر فرمائے۔ورنہ آپ اگر سوچ و بچار سے جو کچھ کرتے ضروری نہ تھا کہ کامیابی نصیب بھی ہوتی۔مگر جو کچھ ہوا وہ تمام ظاہری سامانوں کے سراسر خلاف ہوا اور یہی تو خدا کی خدائی اور اس کی چہرہ نمائی ہے۔اس بیان میں نہ تو تصنع ہے نہ مبالغہ۔خدا تعالیٰ کے اسرار کوکون سمجھ سکتا ہے۔اکتساب معاش کی کوشش آپ سید بشیر حیدر صاحب سے ملے۔اور دوسرے بچھڑے ہوئے دوستوں سے بھی ملاقات کی۔دو تین روز کے بعد سید بشیر حیدر صاحب سیالکوٹ چلے گئے اور آپ ایک دو روز کے لئے چونیاں ٹھہرے۔چونیاں میں ان کے سامان کا کچھ حصہ ابھی اسی مکان کے ایک حصہ میں متقفل پڑا تھا جس میں آپ رہا کرتے تھے اس کی چابی کسی ضرورت کے ماتحت والدہ محترمہ نے آپ کو دی تھی۔مکان کو کھول کر آپ نے والد صاحب کا وہ سامان جس سے پارہ کے گلاس بنایا کرتے تھے۔اس خیال سے نکال لیا کہ سفر میں کام آوے گا کیونکہ والد صاحب کو گلاس بناتے دیکھ کر آپ نے بھی پارہ کا گلاس بنانا سیکھ لیا تھا۔آپ گھر سے کچھ زیادہ روپیہ نہ لائے تھے۔بلکہ اس خیال سے استغنا برتا تھا کہ والدین کو آپ کی حصول ملازمت کا یقین رہے اور آپکی روانگی میں روک پیدا نہ ہو۔آپ بھی دو تین روز بعد چونیاں سے روانہ ہو گئے۔مگر نہ سیالکوٹ کو ، بلکہ اس خیال سے کہ ریاستوں میں روپیہ بہت ہوتا ہے پارہ کے گلاس بنا کر فروخت کروں گا۔اور روپیہ والدین کو بھی بھیجوں گا۔تا کہ ان کو تسلی رہے اور پھر سیالکوٹ جاؤں گا۔بچپن سے آپ کی تربیت میں حیا اور غیرت ہے جس کے باعث آپ نے کسی دوست کا مہمان بن کر بوجھ بنا گوارا نہ کیا اور ماہ جون میں ہی کپورتھلہ چلے گئے۔اور وہاں ایک ویران سرائے میں ٹھہرے اور پارہ کا گلاس تیار کیا اور بعض رؤسا کے ہاں لے گئے اور اس کی اصلیت کے ثبوت میں چند قطرے سیال پارہ کے گلاس میں ڈال دیتے جو بغیر سوراخ کئے دوسری طرف نکل جاتے۔لوگ آپ کی کاریگری کی تعریف کرتے لیکن خریدار کوئی نہ بنتا۔دراصل گلاس بنانا چنداں مشکل نہ تھا۔مشکل تھا اس کا فروخت کرنا۔جس کے لئے بڑی چرب زبانی اور لاف زنی اور ہوشیاری کی ضرورت تھی۔بہر حال آپ کو یہ معلوم ہو گیا کہ روپیہ کمانا اتنا آسان نہیں۔