اصحاب احمد (جلد 9) — Page 23
۲۳ کے خطرہ اور منزل پر پہنچنے کے خیال سے انہوں نے آرام کئے بغیر سفر مسلسل جاری رکھا اور شدید پیاس کے با وجود پانی کی بھی تلاش نہ کی۔بہت تنگ ہوئے تو راستہ میں بکریوں کا دودھ لے کر پیاس بجھانے کی کوشش کی۔خُدا خدا کر کے دریائے راوی اور آبادی کے آثار نظر آئے تب جان میں جان آئی۔عصر کے وقت یہ گوگیرہ کی بستی میں پہنچ گئے اور بر والے کو خرچ دے کر آپ خو د ریلوے اسٹیشن کو روانہ ہو گئے۔خیال تھا کہ کوئی گاڑی جاتی ہوگی جس سے معیاد مقررہ کے اندر آپ سیالکوٹ سید بشیر حیدر صاحب کے پاس جا پہنچیں گے۔لیکن اسٹیشن پر معلوم ہوا کہ گاڑی نکل چکی ہے۔اور لاہور کو صبح سے پہلے کوئی گاڑی نہ جائے گی۔یہ سوچ کر سخت مایوسی ہوئی کہ آپ کل شام تک سیالکوٹ نہ پہنچ سکیں گے۔ساری محنت کے رائیگاں جانے کا سخت صدمہ تھا۔اور کئی رات کی بے خوابی اور سفر کی کوفت بھی تھی آپ پلیٹ فارم پر لیٹ گئے۔اور ایسے بیہوش ہوئے کہ صبح گاڑی کی گھنٹی بجنے پر بھی بیدار ر نہ ہوئے۔آخر چوکیدار نے جگایا اور کہا کہ گاڑی آتی ہے۔گھبراہٹ میں اٹھے اور سوچ ہی رہے تھے کہ کدھر جائیں کہ سیالکوٹ تو وقت پر نہیں پہنچ سکتے۔اتنے میں گاڑی سامنے آ گئی۔اور آپ بے تحاشا کھڑکی کے سامنے جا کھڑے ہوئے اور عین اس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل میں ڈالا کہ چھانگا مانگا کا ٹکٹ خرید و اور چونیاں چلو۔چنانچہ گاڑی میں بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور دستگیری کے لئے جھک گئے۔چھانگا مانگا سے یکہ پر چونیاں پہنچے۔یکہ سے اتر رہے تھے کہ آواز آئی۔” بھائی جی خوب آئے۔سید بشیر حیدر یہیں ہیں۔“ سبحان الله و الحمد لله ولا اله الا الله والله اكبر کوئی کیا جانے کہ بھائی جی کے دل کی اس وقت کیا کیفیت ہوئی۔اور آپکے دل میں کیا کیا خیالات پیدا ہوئے۔آپ کی روح پانی کی طرح خدائے بزرگ و برتر کے آستانہ پر گری اور انتہائی نیاز مندی کا جوش اور ولولہ آپ کے قلب میں پیدا ہو گیا۔اور ایک لمحہ کے لئے آپ بے حس وحرکت بت بے جان بن کر کھڑے رہ گئے اور اس سکوت اور از خود رنگی سے آخر آپکے مکرم دوست سید زین العابدین شاہ صاحب کے محبت بھرے دل اور ہاتھوں نے لپٹ کر ہوشیار کیا۔پہلی آواز کو آپ ایک غیبی آواز سمجھے تھے اب اپنے یقین اور دل کی تسلی کے لئے دوبارہ سہ بارہ شاہ صاحب سے دریافت کیا کہ کیا واقعی سید بشیر حیدر صاحب یہیں ہیں؟ اور جواب اثبات میں پا کر خدا کا ہزاروں ہزار شکر یہ ادا کیا۔جس نے نہایت ہی ناموافق حالات میں خارق عادت رنگ میں آپ کی مدد فرمائی۔اور آپ کے اس عہد کو پورا کر کے آپکونئی زندگی عطا کئی۔فالحمد للہ۔خدائے بزرگ نے جس طرح