اصحاب احمد (جلد 9) — Page 25
۲۵ سیالکوٹ میں ورود اور کتب سے حضور کے متعلق آگاہی آپ کا بیان : ( جو بھی آپ کا بیان براہ راست درج کیا گیا ہے وہ عبارت سے ظاہر ہے ): چند روز بعد میں کپورتھلہ سے امرتسر، بٹالہ اور ڈیرہ بابا نانک سے ہوتے ہوئے اپنے سسرال ویرم دتاں پہنچا جہاں میری بیوی تھی۔اور قریباً ایک ماہ قیام کر کے پیدل سیالکوٹ پہنچ کرسید بشیر حیدر صاحب کے ہاں ان کی بیٹھک میں ٹھہر گیا۔اور باوجود سید صاحب کے تقاضا کے کھانے کا انتظام الگ کیا۔میری شکل و شباہت ہندوانہ تھی۔میں کسی ہندو دکان سے کھانا کھا لیتا۔شاہ صاحب مدرسہ جاتے اور میں اکیلے مردانہ میں رہتا۔تنہائی میں کسی شغل کی تلاش ہوئی۔آخر شاہ صاحب کی کتابوں کو الٹ پلٹ کر کے ایک کتاب جو اپنے نام کی وجہ سے مجھے بہت بھائی۔اٹھا کر مطالعہ شروع کر دیا۔کتاب کا نام تھا ” نشان آسمانی“۔کتاب دلچسپ اور نہایت مناسب حال تھی۔لہذا میں نے اسے ختم کئے بغیر نہ چھوڑا۔جب یہ ختم ہوگئی تو ایک اور کتاب مل گئی جس کا نام تھا انوار الاسلام اسے بھی لیا اور باقساط ختم کر دیا۔ان دنوں عبداللہ آتھم والی پیشگوئی کا بہت شور تھا اور سکول ٹائم کے بعد سید بشیر حیدر صاحب کے مردانہ میں اس مسئلہ پر عموماً روزانہ بحث ہوا کرتی تھی جس کو میں شوق سے سنا کرتا تھا۔اوپر کی دونوں کتا بیں جن کا میں نے ذکر کیا ہے سیدنا حضرت اقدس مسیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام کی تصنیف تھیں۔جن میں سے انوار الاسلام میں عبد اللہ آتھم والی پیشگوئی کا ذکر تھا۔اور انعامی اشتہار بھی چار ہزار روپے تک تھے۔اور میں نے اس کو بڑے شوق اور توجہ سے پڑھا تھا۔ایک فریق حضرت اقدس کی صداقت پر اور دوسرا مخالفت پر دلائل دیا کرتے تھے اور بعض اوقات بحث نہایت ہی پر جوش رنگ اختیار کر جایا کرتی تھی۔ایک طرف صداقت کے دلائل دینے والے سادات فیملی کے نوجوان تھے جن میں سے سید بشیر حیدر صاحب سید رشید احمد صاحب اور سید محمد سعید صاحب کے نام مجھے یاد ہیں۔میں بھی چونکہ پاس بیٹھا ہوا کرتا تھا۔صحیح نام سید محمد رشید ہے۔استفسار پر مکرم سید امجد علی صاحب نے سیالکوٹ سے خاکسار مؤلف کو تحریر فرمایا کہ آپ ڈرافٹسمین اور اوور سیئر تھے۔منارة امسیح کی تیاری کا ابتدائی کام انہی کی نگرانی میں چند سال تک ہوتا رہا۔بعد میں آپ نے گوجرانوالہ میں بطور ڈرافٹسمین ملازمت کی۔وہیں وفات پا کر دفن ہوئے۔سید محمدسعید صاحب آپ کے بھائی تھے۔وہ سیالکوٹ میں اپنے خاندانی قبرستان میں دفن ہیں۔