اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 210 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 210

۲۱۰ میاں ! حضرت کو کیا علم کہ ہمیں یہاں کن مشکلات کا سامنا ہورہا ہے اور مخالفت کا کتناز ور ہے۔ان حالات میں اگر یہ اشتہار شائع کیا گیا تو یہ تو ایک تو وہ بارود میں چنگاری کا کام دے گا اور عجب نہیں کہ نفس جلسہ کا انعقاد ہی ناممکن ہو جائے۔موقع پر موجودگی اور حالات کی پیچیدگی سے آخر ہم پر بھی کوئی ذمہ داری آتی ہے۔اچھا جو خدا کرائے انشاء اللہ کریں گے۔آخر بہت سوچ بچار صلاح مشوروں اور اونچ نیچ، اتار چڑھاؤ کی دیکھ بھال کے بعد دوسری یا تیسری رات کے اندھیروں میں بعض غیر معروف مقامات پر چند اشتہار چسپاں کرائے جن کا عدم ووجود یکساں تھا کیونکہ غیر معروف مقامات کے علاوہ وہ اشتہار اتنے اونچے لگائے گئے تھے کہ اول تو کوئی دیکھے ہی نہیں اور اگر دیکھ پائے تو پڑھ ہی نہ سکے۔11- میں نے دیکھا اور سنا بھی کہ سیدنا حضرت اقدس کے اصل مضمون کا جو حصہ خواجہ صاحب قادیان سے اپنے ساتھ لاہور لاتے تھے اس کا مطالعہ اور آیات قرآنی کی تلاوت کی مشق کا سلسلہ بھی جاری تھا خواجہ صاحب کے لاہور چلے آنے کے بعد جو جو حصہ مضمون تیار ہوتا جاتا اس کی نقل ان کو لاہور تک پہنچائی جاتی رہی اور یہ سلسلہ ۲۵ دسمبر ۱۸۹۶ء کی شام تک جاری رہا۔یا شاید ۲۶؍ دسمبر کی رات تک بھی۔۱۲ جلسہ خدا کے فضل سے ہوا۔بہتر جگہ اور بہتر انتظام کے ماتحت ہوا۔اور واقعی سخت مخالفتوں کے طوفان اور مشکلات کی کٹھن اور خطرناک گھاٹیوں کو عبور کرنے کے بعد ہوا۔بڑی بڑی روکیں کھڑی کی گئیں۔طرح طرح کے حیلے اور بار یک دربار یک چالیں چلی گئیں۔مگر بالاخر ہنود و یہود اور ان کے معاون و مددگاروں کا خیبری قلعہ ٹوٹا اور بعینہ وہی ہوا جس کا نقشہ الہام الہی الله اكبر خَرِبَتْ خَيْبَرُ میں بیان ہوا تھا۔دشمنوں نے ٹاؤن ہال نہ لینے دیا۔تو اللہ تعالیٰ نے اس سے بھی بہتر سامان کر دیا۔اور اسلامیہ ہائی سکول اندرون شیرانوالہ دروازہ کی وسیع اور دو منزلہ عمارت لمبے چوڑے صحن ، بڑے بڑے کمروں۔ہال کمرہ وگیلریوں کو ملا کر ایک بڑی عظیم الشان عمارت جو ایک بڑے اجتماع کے لئے کافی اور موزوں تھی خدا نے دلا دی۔۲۶ / دسمبر کا روز جلسہ کا پہلا دن تھا۔حاضری حوصلہ افزا نہ تھی۔سیدنا حضرت اقدس مسیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام کے مضمون کے لئے ۲۷ / دسمبر کا دن اور ڈیڑھ بجے دوپہر کا وقت مقرر تھا۔خدا کی قدرت کا کرشمہ اور اس کے خاص فضل کا نتیجہ تھا کہ حضرت مولانا مولوی عبد الکریم صاحب وفور عشق و محبت سے بے تاب ہو کر والہانہ رنگ میں وقت سے پہلے لاہور پہنچ گئے۔جن کی تشریف آوری سے ہم لوگوں کے لئے خاص تسکین اور خوشی کے سامان اللہ تعالیٰ نے بہم پہنچا دیئے۔۱۳- حالات کی ناموافقت ، جوش مخالفت اور قسم قسم کی مشکلات نیز وقت کی ناموزونیت کے