اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 211 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 211

۲۱۱ باعث خطرہ تھا اور فکر دامن گیر تھا کہ جلسہ شاید حسب دلخواه با رونق نہ ہو سکے گا۔مگرشان ایزدی که خلق خدایوں کبھی چلی آرہی تھی کہ جیسے فرشتوں کی فوج دھکیلے لا رہی ہو۔اور ان کی تحریک کا اتنا گہرا اثر ہوا جس سے مخلوق کے دل بدل گئے اور ان کے قلوب میں بجائے عداوت ونفرت کے عشق و محبت بھر گئی۔مخالفوں کی مخالفت نے کھا د کا کام دیا اور روکنے اور مخالفت کرنے والوں کے غوغا نے لوگوں کی توجہ کو اس طرف پھیر دیا۔لوگ کشاں کشاں تیز قدم ہو ہو کر جلسہ گاہ کی طرف بڑھے اور ہوتے ہوتے آخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ صحن اور اس کے تمام بغلی کمرے اور ہال بھر گیا۔اوپر کی گیلریوں میں تل دھر نے کو جگہ نہ رہی اور ہجوم اس قدم بڑھا کہ گنجائش نکالنے کو سمٹنا اور سکٹر نا پڑا۔دسمبر کی تعطیلات کی وجہ سے جابجا جلسے کانفرنسیں اور میٹنگیں ہورہی تھیں۔لوگوں کی مصروفیات ، ان کے دنیوی کاموں میں انہماک اور مادی فوائد کے حصول کی مساعی کی موجودگی میں ایک خالص مذہبی جلسہ اور کانفرنس میں اس کثرت ہجوم کو دیکھنے والا ہر کس و ناکس اس منظر سے متاثر ہو کر اس حاضری و کامیابی کو غیر معمولی، خاص اور خدائی تحریک و تصرف کا نتیجہ کہنے پر مجبور تھا اور نہ کسی ہندو کو اس سے انکار تھا، نہ ہی سکھ اور آریہ سماجی کو۔نہ مسلمان کو اس سے اختلاف تھا۔عیسائی، یہودی یا دیو سماجی کو بلکہ ہر فرقہ وطبقہ کے لوگ آج کے اس خارق عادت جذب اور بے نظیر کشش سے متاثر اور دل ان کے سچ سچ مرعوب ہو کر نرم تھے۔دیکھنے اور سننے میں فرق ہوتا ہے۔اس تقریب کی تصویر الفاظ میں ممکن نہیں۔مختصر یہ کہ وہ اجتماع اپنے ماحول کے باعث یقینا عظیم الشان بے نظیر اور لاریب غیر معمولی تھا۔۱۴۔مضمون کا شروع ہونا تھا کہ لوگ بے اختیار جھومنے لگے اور ان کی زبانوں پر بے ساختہ سبحان اللہ اور سبحان اللہ کے کلمات جاری ہو گئے۔سنا ہوا تھا کہ علم توجہ اور مسمریزم کے ساتھ ایک معمول سے تو یہ کچھ ممکن ہوتا ہے مگر ہزاروں کے ایک ایسے مجمع پر جس میں مختلف قومی عقائد اور خیال کے لوگ جمع تھے۔اس کیفیت کا پیدا ہو جانا یقیناً خارق عادت اور معجزانہ تاثیر کا نتیجہ تھا۔یہ درست ہے کہ حضرت مولانا مولوی عبد الکریم صاحب کو قرآن کریم سے ایک عشق تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی آواز میں بھی لحن داؤدی کی جھلک پیدا کر رکھی تھی۔نیز وہ ان آیات و مضامین کے ربط اور حقائق سے متاثر ہو کر جس رفت سوز اور جوش سے تلاوت فرماتے ، آپ کا وہ پڑھنا آپ کی قلبی کیفیات اور لذت وسرور کے ساتھ مل کر سامعین کو متاثر کئے بغیر نہ رہتا تھا۔مگر اس مجلس کی کیفیت بالکل ہی نرالی تھی۔اور کچھ ایسا سماں بندھا کہ اول تا آخر آیات قرآنی کیا اور ان کی تشریح و تفسیر کیا ، سارا ہی مضمون کچھ ایسا فصیح و بلیغ ، مؤثر اور دلچسپ تھا کہ نہ مولانا