اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 209 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 209

۲۰۹ اور انکی کوشش ہوا کرتی کہ پڑھنے کے طریق و بیان میں کوئی جدت پیدا کریں۔جس سے سامعین زیادہ سے زیادہ متاثر ہوسکیں۔آیات قرآنی احادیث یا عربی الفاظ وفقرات کو از برکرنے کی کوشش کیا کرتے۔قدرت نے خواجہ صاحب کو جہاں اردو خوانی میں خاص ملکہ دیا تھا وہاں آیات قرآنی کی تلاوت میں باوجود کوشش کے بہت کچھ خامی پائی جاتی تھی۔جسے خواجہ صاحب محنت وشوق کے باوجود پورا کرنے سے قاصر تھے۔مزید برآں انہی ایام میں بعض ان کے ہمراز دوستوں کی زبانی معلوم ہوا کہ دراصل خواجہ صاحب کو مضمون کی بلند پائیگی ، کمال و نفاست اور عمدگی کے متعلق بھی شکوک تھے جن کا اثر ان کے طرز اداو بیان پر پڑنا لازمی تھا۔اور عجب نہیں کہ یہ بات سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تک بھی جا پہنچی ہو۔جلسہ سے چند ہی روز قبل اللہ تعالیٰ نے حضور کو الہاماً اس مضمون کے متعلق بشارت دی کہ یہ وہ مضمون ہے جو سب پر غالب آئے گا۔اور اس کی مقبولیت دلوں میں گھر کر جائے گی اور یہ کہ یہ امر بطور ایک نشان صداقت ہو گا۔چنانچہ حضور پر نور نے ۲۱ / دسمبر ۱۸۹۶ء کو ایک اشتہار بعنوان ” سچائی کے طالبوں کے لئے ایک عظیم الشان خوشخبری لکھ کر کا تب کے حوالہ کیا اور مجھ نا چیز کو یا فرما کر یہ اعزاز بخشا اور فرمایا کہ ”میاں عبدالرحمن ! اس اشتہار کو چھپوا کر خود لاہور لے جاؤ۔اور خواجہ صاحب کو ( جو کہ ایک ہی روز پہلے انتظامات جلسہ کے لئے لاہور بھیجے گئے تھے ) پہنچا کر ہماری طرف سے تاکید کر دینا کہ اس کی خوب اشاعت کریں۔ضرورت ہو تو وہیں اور چھپوا لیں۔ہماری طرف سے ان کو خوب اچھی طرح تاکید کرنا کیونکہ وہ بعض اوقات ڈر جایا کرتے ہیں۔بار بار اور زور سے یہ پیغام پہنچا دینا کہ ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔لوگوں کی مخالفت کا خیال اس کام میں ہرگز روک نہ بنے۔یہ انسانی کام نہیں کہ کسی کے روکے رک جائے گا۔بلکہ خدا کا کام ہے جو بہر حال پورا ہوکر رہے گا۔“ - 1+ اشتہار قریباً آدھی رات کو تیار ہوا اور میں اسی وقت لے کر پیدل بٹالہ کو روانہ ہو گیا۔۲۲ / دسمبر ۱۸۹۶ء کی دو پہر کے قریب لاہور پہنچا۔جناب خواجہ صاحب اس زمانہ میں لا ہور کی مشہور مسجد مسجد وزیر خاں کے عقب کی ایک تنگ سی گلی میں رہا کرتے تھے جہاں میں ان کو تلاش کر کے جاملا اور اشتہارات کا بنڈل اور حضور کا حکم کھول کھول کر سنا دیا بلکہ بار بار دہرا بھی دیا۔خواجہ صاحب نے بنڈل اشتہارات کو کھولا اور مضمون اشتہار پڑھا اور میں نے دیکھا کہ چہرہ ان کا بجائے بشاش اور خوش ہونے کے افسردہ واد اس سا ہو گیا اور مجھ سے مخاطب ہو کر فرمانے لگے۔