اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 49 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 49

۴۹ حق کی فتح ہوئی۔میرا دل اللہ تعالیٰ نے مضبوط کر دیا اور اطمینان بخشا۔دوستوں نے پھر ایک دفعہ مجھے جلد بھجوا دینے کی سفارش کی اور والد صاحب نے آخری فقرہ یہ کہا کہ اپنے پالے ہوئے مرغ ختم کر کے واپس آ جائے گا۔ایک ضروری بیان حضرت بھائی جی بقیہ سفر کی تفصیل رقم کرنے سے پہلے تحریر فرماتے ہیں کہ مجھے اس بات کا بے حد افسوس اور رنج ہے کہ میں وہ چیز دنیا کو دکھانے سے قاصر ہوں جس نے مجھے مہر مادری اور شفقت پدری اور حب برادری تک بھلا دی۔میری جان شار ہمشیرہ عزیزہ متھرا۔میری حسین خاندان ہم عمر بیوی اور میرے رفیق دوست۔معزز اور مہربان بزرگان خاندان جن کو اپنے خاندانی شرف اور شاندار روایات پر ہمیشہ فخر رہا ہے۔مجھ سے چھڑا دیئے میرا خاندان ، میرا وطن عزیز اور میرا پیدائشی مذہب تک مجھ کو بھلا دیا۔جس کی آواز دنیا میں آتے ہی میرے کان میں ڈالی گئی اور جس کی تلقین متواتر پندرہ سال تک مجھے خاص توجہ سے کی جاتی رہی تھی۔میں شرمندہ ہوں اور اپنی کم مائیگی کا اقرار کرتا ہوں اور مجھے اعتراف ہے کہ مجھ سے حق شہادت ادا نہیں ہو سکتا جو میرے ذمہ ہے اور اگر عمر بھر با نگ دہل نقارے کی چوٹ ، گلے میں دف ڈالے دیہہ بدیہہ، شہر بشہر اور کو بکو منادی بھی کرتا پھروں تب بھی میرا ضمیر یہی کہے گا 66 حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا “ جس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے محض اور محض اپنے فضل سے میرے سینہ کو نو ید اسلام سے منور کیا۔میری آنکھوں کو بینائی بخشی۔اور کفر اور ضلالت و جہالت کے اتھاہ گڑھے سے نکال کر مجھے اوج سعادت پر پہنچایا۔دولت ایمانی سے مالا مال فرما کر نوازا۔اس زمانہ میں تبدیلی مذہب کی وجوہات زن، زریا زور کے سوا کچھ اور سمجھی ہی نہ جاسکتی تھیں اور ہر کسی اظہار اسلام کرنے والے پر یہی شبہات کئے جاتے تھے کہ کسی مسلمان عورت سے آشنائی ہو گئی ہوگی یا (۲) کسی مسلے (مسلمان) نے دھوکہ دے کر سبز باغ دکھا کر اغوا کر لیا ہے۔یا (۳) والدین کی سختی اور بدسلوکی سے تنگ آ کر بھاگ نکلا ہوگا۔وغیرہ۔ورنہ مذہبی صداقت اور روحانی حقانیت سے متاثر ہو جانا اور راستی کے آگے سرتسلیم خم کر کے دنیا و ما فیہا کو خیر باد کہہ دینا اور بغیر کسی مادی طمع یا خوف کے خالصتاً خدا کی رضا کی تلاش و پیاس میں کسی کا نکلنا قبول کرنے میں نہیں آتا تھا۔