اصحاب احمد (جلد 9) — Page 48
۴۸ کہ ان کی والدہ روتے روتے اندھی ہوگئی ہے ان کی آنکھوں کی روشنی کے لوٹتے ہی واپس آجاوے اور کسی سے کہتے کہ اس کے پیارے بھائی بہن اس کی جدائی میں روتے روتے نڈھال ہیں۔میں نے ان کو جان بلب چھوڑا ہے نہیں معلوم میری واپسی تک وہ زندہ بھی ہوں گے یا نہیں۔اگر وہ زندہ ہوں تو ان سے مل کر ان کو دلا سا دے کر ، ان کو چہرہ دکھا کر واپس آ جاوے۔ورنہ ان کی مڑھیاں ہی دیکھ آوے تا ہمارے سینہ کی آگ تو ٹھنڈی پڑ جاوے وغیرہ وغیرہ۔منظر وداع خاکروبوں کے پنڈورہ تک جہاں اس زمانہ میں مرزا نظام الدین صاحب کا آموں کا باغ تھا۔بہت سے دوست اور ہم عمر مجھے رخصت کرنے گئے۔جہاں کوئی اجنبی یکہ تھا۔غفارہ کا ہوتا تو بٹالہ سے کوئی پیغام بھیج سکتا۔یکہ بان جلد روانہ ہونا چاہتا تھا اور کہتا تھا کہ اندھیرا ہو جائے گا۔تو چلنا دشوار ہوگا اور چارہ دانہ بھی نہ ملے گا۔اور گھوڑا بھوکا مرے گا۔اور والد صاحب اس کی پرزور تائید کر رہے تھے۔تا کہ قادیان کی حدود سے جلد باہر نکل سکیں۔گوان کا لب ولہجہ تلطف آمیز تھا لیکن ان کے قلبی خیالات ایسے شدید تھے کہ ان کا انعکاس میرے دل و دماغ کو بھی متاثر کر رہا تھا اور شاید اسی اثر سے متاثر ہوکر الوداع کہنے والے دوست غیر معمولی محبت کا اظہار کر رہے تھے۔اور والد محترم کے حکیمانہ وعدے اور تسلی آمیز فقرات خطرہ کے احساس کو اور بھی تیز کر رہے تھے میرے خیالات میں ایک تلاطم بپا تھا اور بار بار جوش اٹھتا کہ بھاگ نکلو۔کچھ دن ادھر ادھر گذار کے پھر قادیان آجانا۔والد آخر سرکاری ملازم ہیں کب تک پیچھا کریں گے۔لیکن حضرت اقدس کے فرمان کی یاد ایک سد سکندری کھڑی کر دیتی تھی جس کے حسن و احسان نے مجھے جکڑ رکھا تھا۔جس کا جذب اس کے آستانہ پر گرنے والوں کو اسی طرح بنا دیتا تھا اور جس کی محبت دنیا جہاں کی صحبتوں کو بے لطف بنا دیتی تھی۔جس کا کلام روح پرور اور ہرا دا زندگی بخش تھی۔حضور کا فرمان میں نہ صرف یہ کہ توڑ نہ سکتا تھا بلکہ وہ اس زہر آلودہ پیالے کو پی جانے پر آمادہ کر رہا تھا۔اسی کشمکش میں اذان کی پر ہیبت مگر سریلی صدائے تکبیر بلند ہوئی اس نے گویا جنگ کا خاتمہ کر دیا۔اور یہ باغ یا تکیہ مرزا امام الدین صاحب کے نام پر معروف ہے اور باغ یا تکیہ پیڑے شاہ بھی کہلا تا ہے اور پنڈورہ خاکر وہاں کے افراد ہی اس پر قابض ہیں اور پنڈورہ سے جانب جنوب برلب سڑک واقع ہے۔استفسار پر بھائی جی نے فرمایا کہ یہی باغ میری مراد ہے۔