اصحاب احمد (جلد 9) — Page 50
مگر میں علی رؤس الاشھاد یہ اعلان کر دینا اپنا فرض سمجھتا ہوں اگر چہ میرے والدین اس دنیا میں موجود نہیں کہ -1 وہ میرے لئے نہایت ہی شفیق واقع ہوئے تھے۔وہ غیر معمولی طور پر مجھ پر مہربان تھے۔ان کو مجھ سے غیر معمولی محبت تھی۔مجھے ان کے گھر کے اندر ہر قسم کی فارغ البالی اور آزادی حاصل تھی۔جو خوشحالی کا غالب رنگ اپنے اندر رکھتی تھی۔یہی وجہ ہے کہ اسلام کی خاطر میرے گھر سے نکل آنے پر میرے والدین نے میری تلاش اور واپسی پر ہزاروں روپیہ صرف کر دیا۔اور جب دیکھا کہ میں کسی رنگ میں بھی اس دولت ایمان کو ترک کرنے کو تیار نہیں تو نا چار انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔اور خود مہینوں میرے پاس آ کر رہا کئے۔جس سے ثابت ہے کہ ان کو جہاں مجھ سے نہایت درجہ محبت تھی اور وہ مان گئے تھے کہ میرے اظہار اسلام کی تہ میں کوئی طمع یا خوف نہیں بلکہ خالص روحانی تڑپ ہے۔نہ صرف یہی کہ کسی مسلمان کو مجھے تبلیغ کرنے کی توفیق ہی نہیں ملی بلکہ میں نے کسی سے استفادہ بھی کرنا -۲ چاہا تو اس نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ تمہارے رشتہ داروں سے ہمیں خوف آتا ہے۔میری بیوی میری ہم عمر اور خوش شکل ہونے کے علاوہ ایک معزز گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔اور اس کو مجھ سے گہرا تعلق تھا اور وہ میرے پاس رہتی تھی۔الغرض بفضلہ تعالیٰ مجھے زمانہ کی بدمذاقی و بدشگونی سے یہ ہمہ وجوہ نجات تھی اور مجھے خود خدا تعالیٰ نے خالصتاً اپنی محبت کے لئے نوازا اور دولت ایمان اور نور اسلام سے مالا مال فرمایا ہوا تھا۔اور میرے وجوہات قبول اسلام کے نہایت پاک اور زر خالص کی طرح ہر قسم کی ملونی سے مبرا تھے۔حالات مذکورہ بالا میں وہ کونسی طاقت تھی جس نے ایک طرف تو میری اتنی بھاری اور پختہ زنجیروں کو توڑ دیا کہ نہایت ہی محسن اور شفیق والدین اور جان سے عزیز بھائی بہنوں اور گہرے دوستوں اور بزرگوں کی محبت کو مجھ پر ایسا سرد کر دیا کہ نہ صرف ان کی کوششوں ہی کو مجھے ٹھکرانا پڑا۔بلکہ ان کی منت و سماجت سے بھی بڑھ کر التجا و لجاجت تک کا مجھ پر اثر نہ ہوا۔اور میں نے ان کے ساتھ جانے تک سے انکار کر دیا۔دوسری طرف وہ کون سی طاقت۔کونسا جذب اور کونسی قوت مقناطیسی تھی جس میں میں جکڑا گیا۔جس کو باوجود صد ہزار کوشش کے میرے والدین توڑنے یا ڈھیلا کرنے تک سے بھی عاجز آگئے۔افسوس ! میں وہ دنیا کو دکھا نہیں سکتا کیونکہ وہ مادی نہیں۔یہ سچ ہے کہ بچپن میں میرے دل میں تخم اسلام کاشت کر دیا گیا تھا۔لیکن یہ نا قابل انکار حقیقت ہے کہ