اصحاب احمد (جلد 9) — Page 46
۴۶ صاحب نے مجھے یہ نہ بتایا کہ حضرت صاحب یہ ہیں۔حضور کی صحت عام طور پر اس زمانہ میں زیادہ کمزور تھی۔مگر جب کبھی بھی کوئی خاص بات کا موقعہ پیش آتا حضور کا چہرہ مبارک سرخ لعل کی مانند د سکنے لگا کرتا تھا۔اور ایسا معلوم ہوا کرتا تھا کہ حضور سے بڑھ کر شباب اور جوانی کسی پر آئی ہی نہیں۔یہی رنگ آج کی صحبت میں دیکھنے میں آیا۔حضرت مولوی نورالدین صاحب جو پہلے ہی مراقبہ میں تھے حضور کے اس فرمان کی وجہ سے اور بھی جھک گئے اور ایک لفظ بھی نہ دہرایا۔حضور پر نو راٹھے اور اندر تشریف لے گئے۔مجھ غمزدہ کو اتنی بھی جرات نہ ہوئی کہ دست بوسی ہی کر لیتا۔حضرت مولوی صاحب بھی اپنی حرم سرا کو تشریف لے گئے۔میں نے ایک روز قبل جو ڈیا دیکھی تھی اس میں ایک حصہ حضرت مولوی نورالدین صاحب کے متعلق بھی تھا کہ انہوں نے اس سانپ کو جبکہ وہ میری طرف لپکا آ رہا تھا ایک لاٹھی رسید کی تھی مگر اس لاٹھی کا سانپ پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ بیچ کر مجھ سے لپٹ گیا۔میں سمجھتا ہوں کہ حضرت مولانا کی وہ لاٹھی یہی تھی جو آپ نے حضرت اقدس کے حضور بھائی عبدالرحیم صاحب کو میرے ساتھ بھجوانے کی تجویز کی صورت میں چلائی تھی مگر غیر موثر ہو کر رہ گئی۔قادیان سے واپسی کا منظر میں مسجد سے اترا۔والد صاحب نے کہا کہ جلدی کرو۔یکے والا جلدی کر رہا ہے میں نے جلد جلد اپنے چند پارچات اور قرآن کریم۔حزب المقبول اور حضرت اقدس کی دوتین کتب باندھ لیں اور بزرگوں، دوستوں ، محسنوں ، بھائیوں اور رفیقوں سے وداعی سلام کرنے لگا۔میں بہتوں سے ملا اور بہت سے مجھے ملنے کو تشریف لائے۔آخر میں روانگی کے وقت اپنے محسن حضرت مولانا نورالدین صاحب کے در دولت پر بھی حاضر ہوا۔دروازہ پر آواز دی۔سلام کیا۔نام پوچھا گیا۔اجازت ملی۔والد صاحب کی معیت میں اندر پہنچا۔دیکھتا کیا ہوں کہ حضرت مولانا چار پائی پر لیٹے ہوئے ہیں اور دو تین خادم حضور کو چاپی کر رہے ہیں۔میں بڑھا ، جھکا اور سلام کیا۔حضور نے لیٹے ہی لیٹے مجھے گلے سے لگا لیا اور پھڑ پھڑاتے ہونٹوں سے بھرائی ہوئی آواز کے ساتھ میرے لئے دعائے سفر فرمائی اور مجھے دلاسا دے کر نصیحت کی کہ میاں عبدالرحمن نماز پڑھتے رہنا اور تمہارے والد تمہیں نماز سے منع نہیں کریں گے اور اللہ حافظ کہا۔میں اس نقشہ کو کبھی بھی بھول نہیں سکتا۔اور آج پورے چالیس سال کے بعد جب میں اس واقعہ کو حوالہ