اصحاب احمد (جلد 9) — Page 47
۴۷ قرطاس کر رہا ہوں وہ نقشہ ہو بہو میرے سامنے موجود اور وہی تاثرات آج بھی میرے دل میں موجزن ہیں ایسا کہ میں سمجھتا ہوں کہ وہ واقعہ آج ہی ہوا یا ہو رہا ہے۔مکرمی مفتی فضل الرحمن صاحب والے موجودہ مکان کے دالان میں جس کے دو دروازے شمالی جانب صحن میں کھلتے تھے۔غربی جانب کے دروازہ کے اندر دروازہ کو چھوڑ کر دروازہ کے مشرقی جانب آپ کا پلنگ بچھا تھا۔آپ رو بقبلہ لیٹے ہوئے تھے سر مبارک شمال کی جانب تھا۔میں نے محسوس کیا جب کہ حضور نے مجھے گلے لگایا کہ حضور کو شدید بخار تھا اور غمخواری کی وجہ سے آواز میں بھر بھراہٹ تھی۔گویا کہ آپ بحالت تنظیم تھے۔آپ کی محبت اور شفقت سے میرے پیش آمدہ غم و درد کا پیمانہ چھلک پڑا اور میں زار و قطار رونے لگا۔اور یہی نہیں کہ میں روپڑا بلکہ میں نے دیکھا اور اب بھی وہ نظارہ میرے سامنے ہے کہ حضرت مولانا مرحوم و مغفور بھی چشم پر آب ہور ہے تھے۔غرض ایسے ہی پُر درد اور جانگداز حالات میں سے گذرتا ہوا میں اپنے والد صاحب کے آگے لگ کر چل پڑا جن کو میں اپنا عزرائیل بھی اگر ان حالات کی موجودگی میں کہوں تو شاید گناہ نہ ہو۔میں خدائے بزرگ و برتر سے ڈرتا ہوں کہ والد صاحب کی گستاخی کرنے والا گردانا جا کر معصیت کا مرتکب سمجھا جاؤں۔میرے والد تھے میں ان کا فرزند۔مجھے پر ان کے بے انتہا احسان ہیں اور مجھے پہلے سے بھی زیادہ ان کا احترام کرنا چاہئے۔اور کرتا ہوں۔ان کی زندگی میں بھی کیا اور اب بھی دل میں ہے کیونکہ اسلام نے مجھے یہی حکم دیا ہے کہ ان کی زیادہ سے زیادہ فرمانبرداری کروں اور ان کے لئے اف تک نہ کہوں۔عزرائیل کا لفظ میں نے صرف واقعہ کی اصلیت اور اپنی تکلیف کی شدت کی بناء پر استعمال کیا ہے۔الغرض میں اپنے آقا۔اپنے ہادی ورہنما۔اپنے پیشوا ومقتدا کے حکم کی تعمیل میں اپنے والد صاحب کے ساتھ قادیان کی مقدس بستی سے رخصت ہو رہا ہوں۔میرا دل غمگین اور اداس ہے آنکھیں آنسو نہیں ، خون ٹپکا رہی ہیں۔اور سچ سچ میں یہ سمجھ رہا ہوں کہ گھر کو نہیں۔ماں اور بھائی بہنوں کی طرف نہیں بلکہ موت کے منہ میں دھکیلا جا رہا ہوں۔میرے قدم لڑکھڑاتے ہیں اور بجائے آگے اٹھنے کے پیچھے کو پڑتے ہیں۔میرے دوست۔میرے پیارے مجھے الوداع کہنے کو میرے ساتھ آ رہے ہیں اور جہاں مجھے استقلال و استقامت کی تلقین فرماتے ہیں ساتھ ہی میرے والد صاحب سے سفارش بھی کرتے ہیں کہ ان کو جلدی بھیج دینا۔تکلیف نہ دینا اور سوائے زبانی ہمدردی کے اور وہ بیچارے کر بھی کیا سکتے تھے۔والد صاحب ان میں سے کسی کو یہ فرما دیتے کہ اس نے مرغ پال رکھے ہیں ان کو ختم کر کے واپس آ جاوے۔کسی کو فر ما دیتے ہیں