اصحاب احمد (جلد 9) — Page 45
۴۵ اب سب احباب کو اور حضرت مولانا نورالدین صاحب کو بھی اس فیصلہ کا علم ہو گیا۔جس کا اثر ہمارے احباب میں غم اور افسردگی کے رنگ میں اور ہند و بازار اور ہندو گھرانوں میں خوشی و شادمانی کی شکل میں ظاہر ہوا۔بعض دوستوں نے گھبراہٹ تک کا بھی اظہار کیا اور اس فیصلے کو اپنی شکست سمجھ کر مغموم بھی ہوئے۔مگر فیصلہ چونکہ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تھا اس وجہ سے کسی کو مجال سخن نہ ہوئی اور سب نے میرے ساتھ مل کر سر تسلیم خم کیا۔۔ظہر کی نماز کے لئے سیدنا حضرت اقدس تشریف لائے۔حضرت مولانا نورالدین صاحب اور حضرت مولانا عبدالکریم صاحب بھی حاضر تھے۔نماز ادا ہو چکی اور حضور مسجد ہی میں تشریف فرما ہوئے۔خاموشی کا عالم تھا اور چاروں طرف ایک سناٹا چھایا ہوا تھا۔اور کسی قدر غیر معمولی طور سے حضور پر نور بھی خاموش بیٹھے رہے۔حضرت مولانا نورالدین صاحب اپنی عادت کے مطابق سر جھکائے ایک کو نہ میں بیٹھے تھے۔آپ کی عادت مبارک یہ تھی کہ حضور کی موجودگی میں بہت کم کلام فرماتے اور حتی الوسع کلام میں ابتدا نہ فرماتے۔مگر آج غیر معمولی طور پر اس مہر خاموشی و سکوت کو آپ ہی نے ان الفاظ سے جن میں آداب و احترام اور دربار نبوت کی شان کو خاص طور سے ملحوظ رکھا گیا تھا یوں تو ڑا کہ حضور نے بھائی عبد الرحمن کو ان کے والد صاحب کے ساتھ جانے کا حکم دیا ہے۔جس علاقہ میں وہ جائیں گے سکھوں اور غیر مسلموں سے گھرا ہوا ہے اور بہت دور ہے۔حضور اگر پسند فرمائیں تو بھائی عبدالرحیم کو ان کے ساتھ بھیج دیا جائے تاکہ ان کی خبر و خیریت اور حال واحوال تو پہنچتا رہے اور۔۔۔حضرت مولوی صاحب ابھی کچھ اور عرض کرنا چاہتے تھے کہ حضور نے فرمایا اور اس وقت حضور کا چہرہ مبارک سرخ تھا اور آواز میں ایک جلال، شوکت اور رعب تھا۔نہیں مولوی صاحب !۔ہمیں نام کے مسلمان کی ضرورت نہیں۔اگر ہمارا ہے تو آ جائے گا ورنہ کوڑا کرکٹ جمع کرنے سے کیا حاصل ( حضرت بھائی جی رقم فرماتے ہیں کہ اگر کے لفظ کے متعلق مجھے شبہ ہے یقیں نہیں غالب یہ خیال ہے کہ ”ہمارا ہے تو آ جائے گا ) میں جن ایام میں قادیان پہنچا اس زمانہ میں حضور پر نور عموماً بہت لاغر و نحیف ہوا کرتے تھے حضور کا چہرہ مبارک زرد رہتا تھا۔چنانچہ پہلے روز میں حضور کو پہچان بھی نہ سکا۔جب تک حضرت مولوی عبد الکریم