اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 296 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 296

۲۹۶ خاندان خدمت میں ہر وقت مستعد رہا۔ان کا تہیہ ہے کہ حتی الوسع کوئی تکلیف نہ ہونے دیں گے۔پہلے چار وقتوں تک بہت مسرت کے ساتھ انہوں نے ہی تمام اخراجات خوردونوش کو برداشت کیا۔اس کے بعد نوجوان احمدیوں کی انجمن الاخوان نے تمام اخراجات طعام کا انتظام کیا۔حضرت سید دلاور شاہ صاحب۔میاں محمد شریف صاحب وکیل اور حضرت میاں چراغ دین صاحب کے خاندان کے اخلاص میں گداز افراد اور دیگر احباب نے مل کر بہت جلد کل انتظام کر لیا تا کہ جتنے بھی مہمان آئیں انہیں کوئی تکلیف نہ ہو۔لیکن حضور کا پروگرام سے مئی کی شام کو لاہور سے روانگی کا تھا۔حضرت حکیم محمدحسین قریشی سیکرٹری جماعت احمدیہ نے جماعت لاہور کی طرف سے ایک سو روپیہ حضور کی خدمت میں پیش کیا۔ریلوے اسٹیشن پر ایک جم غفیر نے الوداع کہا۔حضور نے ہر ایک سے خندہ پیشانی سے مصافحہ کیا اور باتوں کو بغور سنا ۱۲۵ ۲۔حضور کے بارے اطلاعات قادیان میں روزانہ ایک بورڈ پر چسپاں کی جاتی ہیں۔حضور کی صحت ایسی کمزور تھی کہ محض فغسل کرنے سے بھی ضعف ہو جا تا رہا۔حضور کی ایک صاحبزادی بعمر پونے دو سال بمبئی میں وفات پا گئیں۔باندر اہل قبرستان میں دفن کی گئیں۔حضور نے ۱۳ مئی کو تحریر فرمایا کہ امید ہے، قادیان میں ہر طرح خیریت ہوگی۔یہاں آنے پر میری صحت بفضلہ تعالیٰ بہت ترقی پر ہے۔ایک میل تک چل پھر سکتا ہوں۔ناک اور حلق کے اپریشن کی تکلیف ابھی باقی ہے۔پیچش میں قریباً آرام ہے۔طاقت میں روزانہ اضافہ معلوم ہوتا ہے۔۱۶ رمئی۔آپ اب پیدل میل دو میل سیر کرتے ہیں۔آج آپ ماتھر ان ہل پر سیر کے لئے ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب اور شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی کے ہمراہ تشریف لے گئے۔رات وہیں ٹھہرے۔وہاں گھوڑے کی سواری کی۔ناک سے کبھی کبھی خون آتا ہے۔حضرت ام المومنین شدید بیمار ہو گئیں جس سے حضور کی طبیعت پر گہرا اثر ہوا۔اس کے باوجود آپ نے ایک انجینئر سے ساڑھے چار گھنے تبلیغی گفتگو کی۔الفضل ۷ جون میں محترم بھائی عبدالرحمن صاحب کی طرف سے موصولہ اطلاع حضرت اُم المؤمنین اور حضور کی صحت کے بارے میں درج ہے۔اور الفضل ۱۴ جون میں بھائی جی کی اطلاع درج ہے کہ بزرگان مستری محمد موسیٰ صاحب، سید دلاور شاہ صاحب، حکیم محمد حسین صاحب قریشی اور ممبران میاں فیملی ڈپٹی میاں محمد شریف صاحب ومیاں چراغ دین صاحب یہ سب لا ہور کے چوٹی کے مخلصین میں سے تھے۔رضی اللہ عنہم۔