اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 297 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 297

۲۹۷ حضرت مع اُم المؤمنین واپس تشریف لا رہے ہیں۔) حضور مع حضرت ام المومنین و قافلہ ۱۴ جون کو رات بارہ بجے ٹرین سے بٹالہ پہنچے۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی اور بعض احباب بٹالہ پہنچ چکے تھے۔حضور کا ارادہ براہ راست ڈلہوزی تشریف لے جانے کا تھا۔لیکن حضرت عرفانی صاحب نے ادب کے ساتھ احباب قادیان کے جذبات محبت وعقیدت کی ترجمانی کی۔سوحضور صبح (۱۵/ جون ) کو بٹالہ سے گھوڑی پر سوار ہوئے اور اسے دوڑائے آئے۔سید اسعد علی شاہ صاحب بھی ایک گھوڑے پر ہمرکاب تھے۔احباب تانگوں، سکوں اور پہلی پر تھے۔اور بعض پیدل۔راستہ میں احباب قادیان ملتے گئے۔نہر پر جماعت قادیان نے اپنے امیر حضرت مولانا شیر علی صاحب کی معیت میں استقبال کیا۔پھر حضور قادیان کے راستہ تک قریباً دو میل جماعت کے ساتھ پیدل تشریف لائے۔آپ کی معمولاً تیز رفتاری کی وجہ سے اکثر احباب کو دوڑ دوڑ کر ساتھ ملنا پڑتا تھا۔قادیان کے اس راستہ پر جو سڑک سے علیحدہ ہوتا ہے حضور پھر گھوڑی پر سوار ہو کر معمولی رفتار سے آئے۔اور ایک ماہ بارہ دن کے بعد قادیان پہنچے۔حضور جب سفر پر تشریف لے گئے تھے تو سخت ضعیف و مضمحل ہونے کی وجہ سے پالکی میں گئے تھے۔۱۲۷ ۳- سفر ڈلہوزی (۱۹۱۸ء) ا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ۲۲ جون ۱۹۱۸ء کو ڈلہوزی تشریف لے جانے کے لئے بعد نماز عصر احباب کے ساتھ بہشتی مقبرہ میں دعا کی۔پھر شہر واپس ہوئے اور احمد یہ چوک سے ہو کر قصبہ سے باہر نکلے اور کھلے میدان میں مغرب و عشاء کی نمازیں ادا کیں۔پھر مختصر تقریر میں بتایا کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ایک کو کبھی دوسرے کو امیر مقرر فرماتے۔ایک کی نا قابلیت کی وجہ سے نہیں بلکہ تا کہ عجب پیدانہ ہو۔اور سب میں اطاعت و انکساری کا مادہ پیدا ہو۔پھر حضور نے حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب کو امیر قادیان مقرر فرمایا۔اور سب سے مصافحہ کیا اور تانگہ پر روانہ ہو گئے۔یہ سفر طبی مشورہ سے تھا کہ کسی پہاڑی مقام پر آپ تشریف لے جائیں۔بٹالہ کے اسٹیشن پر ساڑھے گیارہ بجے شب قافلہ پہنچا۔جماعت بٹالہ وہاں موجود تھی۔ایک بجے شب کی ٹرین سے روانگی ہوئی۔ٹرین میں اپنے خدام کے ساتھ مل کر آپ نے ما حضر تناول فرمایا۔اور تھوڑی دیر