اصحاب احمد (جلد 9) — Page 295
۲۹۵ ۲- سفر بمبئی (۱۹۱۸ء میں ) -1 ۱- شدید علالت کے باعث حضرت خلیفہ مسیح الثانی تبدیلی آب و ہوا کے لئے مع حضرت ام المومنین بمبئی جانے کے لئے سرمئی ۱۹۱۸ ء کو بعد نماز عصر روانہ ہوئے۔آپ کے ہمراہ ڈاکٹر رشیدالدین صاحب۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب شیخ عبد الرحمن صاحب مصری اور مولوی عطا محمد صاحب تھے۔۴ رمئی کو لاہور ریلوے اسٹیشن پر جماعت استقبال کیلئے موجود تھی۔حضور احمد یہ ہوٹل میں فروکش ہوئے۔ان طلباء کا اخلاص وارادت کا نمونہ بہت خوشکن تھا۔انہوں نے چار پائیاں اور بستروں تک مہمانوں کو دے دیئے اور خودزمین پر سوئے۔رات کو پہرہ بھی دیتے رہے۔حضور جیسے وجود ، اخلاص سے پیش آنے والوں کی بہت قدر کرتے ہیں۔کسی کی غلطی سے مہمانوں کی دل شکنی کا علم ہونے پر آپ نے اسی وقت ان کو تسلی بخش پیغام بھیجا کہ آج سے دونوں وقت آپ میرے ساتھ دستر خوان پر کھانا کھایا کریں۔سو حضور اس وقت تک کھانا تناول کرنے میں تو قف فرماتے جب تک سب مہمان دستر خوانوں پر بیٹھ نہ جائیں۔گویا اس خاطر کہ مہمانوں کی دل شکنی نہ ہو آپ اپنے آرام کو قربان فرماتے تھے۔لاہور کے ہر فرد نے اپنی ہمت سے عملاً اخلاص کا اظہار کیا۔حضرت مستری محمد موسیٰ صاحب نے اخلاص و محبت سے حضور اور آپ کے خدام کی مہمان داری کا ذمہ اپنے اوپر لے رکھا ہے۔اور آپ کا بقیہ حاشیہ : -۷۔ڈاکٹر عبداللہ صاحب کے حالات کے لئے دیکھئے لاہور تاریخ احمدیت مؤلفہ حضرت شیخ عبدالقادر صاحب سابق سودا گرمل۔ڈاکٹر عبد اللہ صاحب کے مکان کے پاس کے راستہ سے حضور بہشتی مقبرہ کی طرف تشریف لے گئے تھے۔ڈاکٹر صاحب کے مکان اور اس راستہ کی نشاندھی کے لئے یہاں کا خاکہ دیا جارہا ہے۔بڑے باغ سے آگے ملحق جانب جنوب بہشتی مقبرہ ہے اور بڑے باغ سے ملحق جانب شمال ایک وسیع ڈھاب تھی جو داکٹر صاحب کے مکان سے آگے جانب جنوب چند مکانات کے بعد شروع ہو جاتی تھی اور تقسیم ملک کے بعد تک بھی یہ ڈھاب سال کے ایک حصہ میں بالکل خشک ہو جاتی تھی اور لوگ بڑے باغ کے مغربی طرف کے ایک راستہ سے قادیان میں آمد و رفت رکھتے تھے۔پہلے موسم برسات کا پانی شمال کے اطراف سے ریتی چھلہ اور قادیان کے اردگرد کی ڈھاب میں جمع ہو جاتا تھا لیکن تقسیم ملک کے بعد سرکاری طور پر نکاسی نالہ بنادیا گیا۔