اصحاب احمد (جلد 9) — Page 239
۲۳۹ ہو گیا کہ اس کی جسمانی بیماری کے علاج کے ساتھ ساتھ اس کی روحانی امراض کی بیخ کنی کے بھی سامان ہیں اور دلائل اور براہین ایسے قومی ، کفر شکن اور لاجواب ہیں جن کے جواب کی اس میں تاب ہے نہ برداشت تو اس نے اس سے بچنے کی کوشش کی۔کبھی اس نے بیماری کا عذر کر کے مجلس میں آنے سے گریز کیا تو کبھی ضد، کج بحثی اور بد زبانی کر کے بات سننے سے پر ہیز کیا۔پہلو بدلتا رہتا۔موقع ٹال دیا کرتا۔اور یہاں تک بھی شرارت کرتا کہ بد زبانی گستاخی اور بے ادبی پر اتر آتا کہ شاید یہی راہ اس کی نجات اور قادیان سے بچاؤ کی ہو جائے۔حضور ناراض ہو کر نکال دیں۔یا کوئی طیش میں آ کر مار بیٹھے تو غرض پوری اور مدعا حاصل ہو جائے۔دوسری طرف اس نے خفیہ خفیہ بٹالہ کے عیسائیوں سے جوڑ توڑ اور ساز باز کرنا شروع کر دیا۔ان کی امداد کی امید پر اور زیادہ دلیر، بے باک اور نڈر ہو کر گستاخی اور شرارت میں بڑھنے لگا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ دو تین مرتبہ قادیان سے بھاگ کھڑا ہوا تا بٹالہ پہنچ کر قلعہ بند اور محفوظ ہو جائے۔مگر اپنی مراد نہ ہمت ماں کی ہوشیاری ، چستی اور بہادری کی وجہ سے ہر مرتبہ اپنے مقصد میں نا کام اور حیلوں میں نا مرا در ہا۔اور کبھی بھی قادیان سے باہر نہ نکل سکا۔مصلحت الہی سے روحانی اور جسمانی دونوں طبیب کامل تھے۔اس کی لمبی بیماری سے نہ گھبرائے نہ تھکے اس کی بے اعتدالیوں اور بد پر ہیزیوں سے اکتائے نہ مایوس ہوئے۔بلکہ پورے استقلال، تحمل اور ضبط سے اس کے علاج میں لگے رہے۔گالی گلوچ کی پرواہ کی۔نہ شرارت و گستاخی کی۔پورے صبر و چشم پوشی اور درگذر سے کام لے کر اس کے گند دھوتے ناسور صاف کرتے اور محبت سے مرہم پٹی کرتے رہے نہ کسی طمع کی امید سے نہ کسی خدمت وسلوک کے خیال اور اجر وجزا کی رجا پر محض خالص اللہ محض اس کی بھلائی کی نیت اور اس خیال سے کہ شاید چنگا ہو کر خدا کے غضب کی آگ سے نجات پا جائے۔کفر و شرک کی مار اور نبیوں کی تو ہین کی لعنت سے بچ سکے۔پھیلاں ، سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حسن واحسان اور عطا وسخا اور اخلاق کریمانہ کو دیکھتی اور اپنے لڑکے کی کرتوتوں کے خیال سے مری جارہی تھی۔ندامت اور شرم سے اس کا سر جھکا رہتا اور ہر وقت حضور کی رحمت و شفقت کے گیت گاتی، دعائیں دیتی رہتی تھی۔اس کی بے قراری واضطرار دیکھا نہ جاتا تھا۔جس دلی تڑپ اور منت و سماجت سے وہ عورتوں اور مردوں اپنے اور بیگانوں سے دعاؤں کے لئے التجا کیا کرتی تھی اس کا نقش آج تک دماغ میں قائم اور دل میں موجود ہے۔اس کی