اصحاب احمد (جلد 9) — Page 240
۲۴۰ تمنا، اس کی آرزو اور یہی اس کی خواہش ہوا کرتی تھی کہ اس کا بیٹا تو بہ کرے اور سچے دل سے ایک بار کلمہ پڑھ لے پھر چاہے دوسرے ہی دن مر جائے۔مرے تو مسلمان ہو کر۔کافر نہ مرے۔“ محمد دین پڑھا لکھا میٹرک پاس نو جوان تھا۔قادیان میں رہتے کئی ماہ گذر چکے تھے۔حضرت نورالدین اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مطب میں اس کی رہائش اور نشست و برخاست تھی۔جہاں ہر رنگ ہر مذاق اور ہر مذہب وملت کے لوگ آیا کرتے۔امیر غریب کا کوئی امتیاز نہ تھا نہ مسلم غیر مسلم کا۔ہر قسم کا کھلا درویشانہ دربار تھا۔جو سبھی کے واسطے یکساں و برابر کھلا رہتا تھا۔کوئی آتا کوئی جاتا کسی کو روک تھی نہ ٹوک۔محمد دین کو ہر قسم کی آزادی تھی کوئی پابندی یا نگرانی جماعت کی طرف سے اس پر ہرگز نہ تھی۔البتہ اس کی ماں اس کے حالات و عادات کی واقف وراز دار ہونے کی وجہ سے اس کی نقل و حرکت کی نگرانی عقلمندی و ہوشیاری سے ضرور کیا کرتی تھی۔باقی بول چال گفتگو اور بات چیت کی اسے کسی سے بھی روک نہ تھی۔لمبے عرصے تک رہنے کی وجہ سے نہ صرف مقامی لوگ اس سے واقف اور وہ ان سے آشنا ہو چکا تھا بلکہ مضافات قادیان اور گورداسپور بٹالہ وغیرہ کے لوگوں سے بھی اس کے تعلقات ہو چکے تھے۔صحت جسمانی اس کی بہتر ہو رہی تھی بلکہ مطب میں رہ کر وہ طب کا مشتاق اور نسخہ جات کی تلاش ودھن میں رہنے لگا۔اور اس طرح وہ خود نیم حکیم تو ضرور بن گیا تھا۔ایک روز جون کے مہینہ میں کڑکتی دھوپ اور شدت دو پہر کے وقت جبکہ ہم دو تین آدمی موجودہ موٹر گیراج والے دالان میں جہاں اس زمانہ میں حضرت کا پریس ضیاء الاسلام نام ہوا کرتا تھا۔دو پہر کی تلخی اور دھوپ کی حدت کاٹ رہے تھے ، اچانک خلاف معمول ، غیر متوقع طور پر مائی پھیلاں نہایت پریشان اور گھبراہٹ واضطرار کی حالت میں آئی۔اس کا اضطراب و درد کچھ ایسا تھا کہ ہمارے دل رحم سے بھر گئے اور ہم اس کی طرف ہمہ تن گوش بن کر متوجہ ہوئے۔وہ روتی جاتی تھی اور بات کے ساتھ ساتھ جلد جلد اپنے دامن کو سنبھالتی جارہی تھی۔ایک کونہ کو پکڑتی اور چھوڑ دیتی پھر دوسرا پکڑ کر ٹولتی اور چھوڑ دیتی حتی کے تیسرے یا چوتھے کونہ کو ٹول کر اس نے گرہ کھولنی شروع کی۔چونکہ وہ بیک وقت تین طرف متوجہ تھی۔۱ گریه وزاری ، آہ و بکا ۲ - مصیبت کی کہانی کا بیان - اور دامن کی گرہ کشائی اس وجہ سے۔ہمارے پلے تھوڑا ہی کچھ پڑا اور اس کی پوری بات ہماری سمجھ میں نہ آسکی۔حتی کہ گرہ سے کھول کر ایک اٹھنی اس نے اپنی انگلیوں میں تھامی اور بصد لجاجت ہم میں سے ہر ایک کی طرف ہاتھ بڑھایا کہ لے لو اور میرے بیٹے کو کہیں سے پکڑ لاؤ۔وہ بھاگ گیا ہے۔بہت تلاش کی سرمارا ، مگر وہ ہاتھ نہیں آیا۔وہ گیا