اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 238 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 238

۲۳۸ اس کے دل کا زنگ اور کفر وانکار کی سیاہی اتنی سخت گہری اور میلی ہو چکی تھی جس کے دور کرنے کے لئے لمبے مجاہدہ غیر معمولی محنت اور بھاری توجہ کی ضرورت تھی۔اس کے دل کی زمین اتنی خشک اور ایسی سنگلاخ ہو چکی تھی کہ کوئی دلیل کارگر ہوتی تھی نہ برہان۔اس کی فطرت کج اور سینہ سیاہ تھا جس پر کوئی دوسرا رنگ چڑھ جانے کی گنجائش ہی باقی نظر نہ آتی تھی۔وہ کنویں کی ایک کو ری ٹنڈ بن چکا تھا۔جو کبھی ادھر لڑھک جاتی اور کبھی ادھر اور اس طرح اس کے تکلون کے باعث اس کا کوئی اعتبار ہی نہ رہا تھا۔روحانی مرض کی طرح اس کے جسمانی مرض کا بھی یہی حال تھا۔اس میں بھی اتار چڑھاؤ کا غیر متناہی سلسلہ اور مد و جزر رہا کرتا تھا۔کبھی تو حالت اس کی سنبھل جاتی۔اور وہ بھلا چنگا نظر آنے لگتا۔اور کبھی وہی پہلی حالت عود کر آیا کرتی۔اور وہ بالکل مردہ بن کر رہ جاتا۔اور گھڑی پل کا مہمان نظر آنے لگتا۔اس کی ماں نہایت ہوشیاری سے اس کی نگرانی رکھتی اور حالات کا مطالعہ کرتی رہتی تھی۔اس کے تلون، کج بحثی اور ضد اور شرارت کے حالات سے متاثر ہو کر وہ گھبرا جایا کرتی۔اس کے دل میں خوف و ہراس پیدا ہو جاتا کہ مبادا حضرت ناراض ہو کر تنگ آکر اس کی بدنیتی معلوم کر کے ہمیں دھتکار ہی نہ دیں۔جواب ہی نہ دیدیں۔اور اکثر چلایا کرتی اور رو دھو کر جہاں بیٹے کو سمجھایا کرتی وہاں وہ حضرت کے حضور بھی بصد منت والحاح درخواستیں کرتی ، التجائیں کرتی کہ حضور نے خدا کے لئے دستگیری فرمائی ہے۔محمد دین کی بدزبانی ، شرارت اور سختی کو خیال میں نہ لائیں۔خدا کے واسطے رحم کر کے چشم پوشی فرمائیں۔درگذر کریں۔اور اس کے ہاتھ نہ چھوڑیں۔ایک مرتبہ کلمہ پڑھا دیں۔پھر چاہے مرجائے مجھے اس کا غم نہیں۔فکر ہے تو یہی کہ کافر نہ مرے۔“ بات دراصل یہ تھی کہ والدہ اس کی اسے علاج کرانے کے وعدہ سے لائی تھی اور وہ بھی اسی خیال سے رضا مند ہوکر اس کے ہمراہ چلا آیا تھا کہ حضرت مولانا نورالدین اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام نامی اور اسم گرامی طبی دنیا کے بلند ترین منار اور شہرت کے عالی مقام پر نمایاں طور سے کندہ ہو چکا تھا۔ورنہ اگرا سے یہ و ہم بھی ہوتا کہ اس کی ماں اس کی روحانی بیماری کے علاج کو مقدم سمجھ کر قادیان لا رہی ہے تو یقیناً وہ موت کو اس پر ترجیح دیتا۔اور اپنے گھر یا گوجرانوالہ سے باہر ایک قدم بھی نہ اٹھاتا۔کیونکہ حقیقت یہی تھی کہ اس کفر و شرک کا زہر اس کے جسم کے رگ و پے میں اس طرح سرایت کر چکا اس کے خیالات پر قبضہ و تصرف پاچکا تھا۔اور کفارہ مسیح کا خون کچھ ایسا اس کے گوشت پوست میں رچ کر جزو بدن ہو گیا تھا کہ ان چیزوں کا اس کے جسم و جان سے نکالنا یا خیالات سے دور کرنا قریب ناممکن ہی ہو چکا تھا۔یہی وجہ تھی کہ جب اسے یہ علم