اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 84 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 84

۸۴ ہے۔مگر نتیجہ دونوں کا خدا کے فضل سے مفید با برکت اور انجام بخیر ہے اس دوائی کو مکھن میں یا بالائی میں لپیٹ کر صبح و شام کھایا کریں اور ساتھ ہی مقدار بھی ایک خوراک کی الگ فرما کر بتا دی۔میرا حال یہ تھا کہ میرا مکان بھی اور کھانے پینے کے برتن بھی الگ کر دیئے گئے۔اور لوگوں کو میرے پاس زیادہ ٹھہر نے اور باتیں کرنے سے روک دیا گیا۔حتی کہ خود شیخ احمد دین صاحب کو بھی یہ تاکید تھی کہ مجبوری اور ضرورت کے سوا زیادہ میرے قریب نہ رہیں۔اور اس طرح مرض اور بیماری کے علاوہ ان کے حالات سے جو اثر میری طبیعت پر پڑنے لگا ، وہ بہت ہی تکلیف دہ ، دل شکن اور روح فرسا تھا۔اولا تو مجھے علیحدہ مکان کے حصول ہی میں مشکلات کا سامنا ہوا۔اور کوئی مکان اپنے حلقہ میں میسر نہ آیا۔دوسرے محلوں میں جا کر رہنا زندہ درگور ہونا اور موت کے خیال سے بھی بھاری تھا۔مگر ہزاروں ہزار رحمتیں نازل ہوں محترمہ خاتون فضل النساء بیگم صاحبہ مرحومہ کی روح پر جو مرزا محمد احسن بیگ صاحب کی والدہ اور رشتہ میں سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود کے خاندان اور مرز انظام الدین صاحب کی ہمشیرہ تھیں موصوفہ کے مجھ پر اور بھی بہت سے احسانات ہیں انہوں نے مجھ غریب ویکس کے حال پر رحم کھا کر اپنے اثر ورسوخ سے خان بہا در حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کے مکان میں سے ایک کوٹھڑی خام دلا کر اس فکر اور تشویش سے نجات دلائی جو اس وقت موجودہ صادق لائبریری کے صحن والی جگہ کے جنوب مغربی کو نہ میں واقع تھی۔(بعد بعد میں تقسیم ملک سے قبل ہی صادق لائبریری یہاں سے منتقل ہو گئی تھی۔مولف ) اور اس کے غرب میں کو چہ اور کوچہ کی دوسری جانب سیدۃ النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا موجودہ باروچی خانہ والا کمرہ ہے۔جنوبی جانب حضرت نواب صاحب قبلہ کے موجودہ بلند و بالا مکان کی حد واقع تھی۔اور یہ حصے اس زمانہ میں بالکل ایک ویران چوگان کی شکل میں کھنڈر اور غیر آباد پڑے تھے۔اس دوائی سے شاید ایک ہفتہ میں میری طبیعت سنبھلنے گی اور ہوتے ہوتے حضور کی تو جہات کریمانہ کے طفیل اللہ کریم نے ایسا فضل کیا کہ ایک روز جب کہ صبح حضور سیر کے واسطے جانے لگے تو میں نے دل کو مضبوط کیا اور لاٹھی کے سہارے لرزتا اور کانپتا حضور کی زیارت کے لئے بستر مرگ ہی سے گویا اٹھ کر احمد یہ چوک کی طرف بڑھا۔میں موجودہ صادق لائبریری کے ریڈنگ ہال والی جگہ سے کو چہ میں پہنچا تو حضور پر نور اس وقت حضرت حکیم الامت مولانا نورالدین رضی اللہ عنہ کے مطب کے پاس تھے۔میں چند ہی قدم بڑھا تھا اتنے میں حضور مکرمی مفتی فضل الرحمن صاحب کے مطب کے پاس آ پہنچے۔میں نے سلام عرض کیا حضور نے آواز پہچان کر جواب دیا اور ایک نظر شفقت مجھ پر ڈالی اور فرمایا۔”میاں عبد الرحمن کیا