اصحاب احمد (جلد 9) — Page 83
۸۳ بے نظیر ہمدرد خلائق شاہی طبیب پوری توجہ اور باقاعدگی سے کرتے رہے۔بیماری بڑھتے بڑھتے اتنی بڑھی کہ تپ دق بن گئی اور پہلا درجہ طے کر کے دوسرے بلکہ تیسرے درجہ تک جا پہنچی۔اسی پر بس نہیں نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ حضرت مولانا نورالدین جیسا با کمال اور کبھی نہ تھکنے اور مایوس ہونے والا انسان بھی گھبرا گیا۔اور ایک روز تو بر ملا کھلی مجلس میں میری حالت کے متعلق ایسے الفاظ حضور کی زبان سے نکل گئے کہ مجھ سے تعلق رکھنے والے بعض دوست اسی مجلس میں چشم پر آب ہو گئے جن میں سے حضرت قاضی سید امیرحسین صاحب مرحوم رضی اللہ عنہ اور ایک میرے عزیز دوست شیخ احمد دین صاحب ڈنگوی جو بعد میں میرے نسبتی بھائی ہوئے، خاص طور سے مجھے یاد ہیں۔وہ جب سے قادیان آئے میرے ساتھ رہتے اور مجھے سے محبت رکھتے تھے اور اس بیماری میں انہوں نے میری ایسی بے لاگ اور مخلصانہ خدمت کی جس کی یاد میرے دل سے نہ محو ہو سکتی ہے اور نہ میں ان کے اس احسان و خدمت کا کوئی صلہ دے سکتا ہوں اللہ تعالیٰ ہی ان کو جزائے خیر دے اور ان کو دین و دنیا کی نعمتوں سے مالا مال کرے۔آمین۔آپ کی اہلیہ محترمہ کا بیان ہے کہ میں نے اپنے بھائی سے حضرت قادیانی صاحب کی علالت کے حالات سنے تھے۔بھائی جی نے مزید بتایا کہ بعض اوقات میں دیکھتا اور محسوس کرتا کہ وہ علیحدگی میں مجھ سے آنکھ بچا کر رو بھی لیا کرتے یا بعض دوسرے دوستوں سے جو میری عیادت کو تشریف لاتے کچھ ایسے رنگ کی باتیں کیا کرتے جس سے مجھے ان باتوں کے معلوم کرنے کی ٹوہ ہوئی اور آخر ایک روز بالکل تنہائی میں میں نے ان سے بات پوچھی جسے گوانہوں نے آج بھی ہمیشہ کی طرح مجھ سے چھپانے ہی کی کوشش کی مگر آخر میرے اصرار پر مجھے بتا دینے سے قبل خود زار و قطار رونے لگ گئے۔اور بمشکل کئی وقفوں کے بعد سارا قصہ میری سمجھ میں آسکا۔جس کے سننے سے گوطبعا مجھ پر گہرا اثر ہوامگر میں نے فورا عزیز کو سارا ماجرا خدا کے برگزیدہ مسیح کے حضور عرض کرنے کی تاکید کے ساتھ درخواست دعا کی غرض سے بھیج دیا۔حضور نے بات سن کر افسوس کیا اور فرمایا۔دو ہمیں پہلے اطلاع کیوں نہیں دی۔اور ساتھ ہی دوائی بتا کر تسلی دی اور فرمایا کہ ”آپ فورا اس دوائی کو شروع کر دیں اور حالت کی اطلاع جلد جلد دیتے رہیں ہم دعا بھی کریں گے۔“ وہ دوائی کیا تھی؟ صبر۔فرمایا۔صبر اور صبر کا مادہ ایک ہی ہے جس طرح یہ صبر نہایت تلخ چیز ہے اسی طرح صبر بھی تلخ اور مشکل ہوتا آپ کی علالت کے قریباً ایک سال بعد ہماری شادی ہوئی تھی۔شادی ۱۹۰۱ء کے آخر یا ۱۹۰۲ء کے آغاز میں ہوئی تھی۔